خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 455

خطبات محمود آجاتا ہے بے سال ۶۱۹۲۸ اس وقت وہاں کئی لوگ بیٹھے تھے۔کئی نے تو اس عورت کی طرف دیکھا بھی نہ ہو گا۔کئی ایک نے یہ خیال کیا ہو گا کہ کوئی پاگل عورت ہے جو ایک بچہ کو اٹھاتی اور پھر چھوڑ دیتی ہے اور آگے چل پڑتی ہے پھر دوسرے بچہ کو اٹھا لیتی ہے۔کئی ایک نے زیادہ سے زیادہ یہ سمجھا ہو گا کہ اس کا بچہ کھویا گیا تھا اس کی تلاش کر رہی تھی اور جب وہ مل گیا تو اسے لے کر آرام سے بیٹھ گئی مگر رسول کریم کی نظریت اونچی گئی۔آپ نے اس واقعہ سے خدا تعالٰی کی محبت کا ثبوت دیا اور بتایا کہ مومن کو چاہیئے ہر بات سے فائدہ اٹھائے اور غور کر کے نصیحت حاصل کرے۔ابھی پچھلے دونوں ہمارے ملک میں بارش کی کمی کی وجہ سے کتنی گھبراہٹ تھی اور ابھی ہے۔کیونکہ تاحال اس حد تک بارش نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہئے۔جیسے دیکھو آسمان کی طرف دیکھ رہا۔تھا اور زبان حال سے بارش کے لئے التجا کر رہا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالٰی کی طرف سے پانی نہ اتارا جائے تو موت نہایت بھیانک صورت میں لوگوں کے سامنے آجاتی ہے۔مختلف علاقوں سے خبریں آرہی ہیں کہ لوگ بارش کے لئے دعائیں کر رہے ہیں اور کثرت سے خطوط آرہے ہیں کہ بارش برسنے کے لئے دعا کی جائے۔یہ سب کچھ کیوں کیا جا رہا ہے۔صرف اس لئے کہ ایک روٹی گیہوں یا جوار یا باجرہ کی یا چاولوں کی تھالی سے انسان محروم نہ ہو جائیں۔مگر کیا کام ہے جو انسان اس دنیا میں کر رہا ہے۔وہ کچھ عرصہ کھاتا پیتا پہنتا اور دنیا سے چلا جاتا ہے۔پھر وہ کیا چیز ہے جس کے سنبھالنے کے لئے اتنی کوشش کی جارہی ہے۔اگر قحط پڑ جائے تو کیا ہو یہی کہ لوگ بھوکے مریں گے مگر وہ کام کیا کر رہے ہیں جس کے نہ کرنے سے دنیا کو نقصان پہنچ جائے گا۔مگر باوجود اس کے کہ ان کی جانیں کچھ حقیقت نہیں رکھتیں۔باوجود اس کے کہ وہ کچھ نشان چھوڑنے والے نہیں مگر محض اس لئے کہ ان کی جانیں ہیں اور وہ عارضی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ان کے عزیز اور رشتہ دار ان سے جدا تو ہوں گے مگر اس لئے کہ کچھ دن پہلے جدا نہ ہوں وہ اس قدر بے تابی اور بے قراری کا اظہار کر رہے ہیں لیکن کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جسمانی پانی اگر چند دن یا چند ہفتے یا چند مہینے دیر سے آئے تو سب لوگ گھبرا جاتے ہیں مگر روحانی پانی نہیں آتا تو اس کی پروا بھی نہیں کرتے۔پھر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جسمانی پانی کم عرصہ کے لئے رک جائے تو لوگ ہر جگہ اکٹھے ہو