خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 457

خطبات محمود ۴۵۷ سال ۴۱۹۲۸ کریں۔فَذَكِّرُ انُ نَفَعَتِ الذِّكرى الا علی(۱۰) نصیحت کرد - نصیحت کرو کیونکہ ہمیشہ نصیحت کرنے میں فائدہ ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کے لئے یہ بھی دعا کی تھی۔فَاجْعَلُ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوَى إِلَيْهِمُ (ابراہیم ۳۸) کیونکہ دلوں کا کھولنا کسی انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔دلوں کو خدا ہی کھول سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک عرب آیا یہ لوگ چونکہ عام طور پر سوالی ہوتے ہیں وہ جب کچھ دنوں کے بعد یہاں سے جانے لگا تو حضرت مسیح موعود نے کرایہ کے طور پر اسے کچھ دیا مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا میں نے سنا تھا آپ نے مامور ہونے کا دعویٰ کیا ہے اس لئے آیا تھا کچھ لینے کے لئے نہ آیا تھا۔چونکہ یہ ایک نئی بات تھی کیونکہ اس علاقہ کا شاید اب تک بھی کوئی ایسا شخص نہیں آیا جو سوالی نہ ہو۔اس بات کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود نے فرمایا آپ کچھ دن اور ٹھہر جا ئیں وہ ٹھہر گیا اور بعض لوگوں کو آپ نے مقرر کیا کہ اسے تبلیغ کریں۔کئی دن تک اس سے گفتگو ہوتی رہی مگر اسے کوئی اثر نہ ہوا۔آخر تبلیغ کرنے والے دوستوں نے حضرت مسیح موعود سے عرض کیا یہ بڑا جو شیلا ہے سوالی لوگوں کی طرح نہیں اسے صداقت کی تڑپ معلوم ہوتی ہے اس کے لئے دعا کی جائے۔آپ نے دعا کی اور آپ کو بتایا گیا اسے ہدایت نصیب ہو جائے گی۔خدا کی قدرت اسی رات اسے کسی بات سے ایسا اثر ہوا کہ صبح اس نے بیعت کرلی اور پھر چلا گیا۔حج کے موقع پر مجھے بتایا گیا کہ کئی قافلوں کو اس نے تبلیغ کی ایک قافلہ والے اسے مار مار کر بے ہوش کر دیتے تو ہوش آنے پر اٹھ کر دوسرے قافلہ کے پاس چلا جاتا اور تبلیغ کرتا۔تو بات یہ ہے کہ اللہ تعالی ہی جب سینے کھولے تو کھلتے ہیں۔ہماری ترقی کام کے مقابلہ میں بہت محدود ہے اور اس وقت تک محدود ہی رہے گی جب تک ہم میں سے ہر ایک کو تبلیغ کے لئے وہ جنون نہیں پیدا ہوتا جس سے دنیا کا فتح ہونا وابستہ ہے۔ایک آگ لگی ہونی چاہئے اور لوگوں کے ہدایت پا جانے کے متعلق تڑپ ہونی چاہئے جس سے وہ محسوس کریں کہ ہمارے دلوں میں ان کے لئے درد ہے۔اللہ تعالی ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے۔ہماری باتوں میں اثر ڈالے اور ہمارے گم شدہ بھائیوں کو ہم سے ملائے۔الفضل ۳۱ / اگست ۱۹۲۸ء) بخاری کتاب الادب باب رحمته الولد و تقبیلہ و معانقه