خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 394

خطبات محمود ۳۹۴ سال ۱۹۲۸ء ہمارا سلوک جو ہم نے ان سے کیا اور وہ ہے ان کا سلوک جو آج وہ ہم سے کر رہے ہیں لیکن ہمیں پھر بھی کوئی گلہ نہیں کوئی شکوہ نہیں۔ہم یہی سمجھتے ہیں کہ ہمیں اسلام کی خاطر نمونہ دکھلانا چاہئے شاید مسلمان آج نہیں تو کل کل نہیں تو پرسوں یہ بات سمجھ جائیں کہ آپس میں ایسا تفرقہ نہیں کرنا چاہئے جس سے اسلام کو نقصان پہنچے اور جس سے دشمنان اسلام کو مدد حاصل ہو۔جیسا کہ میں نے بتایا کسی کا مرتد ہو جانا جیسا کہ ہو جاتے ہیں اور رسول کریم کے وقت بھی ہو گئے تھے آپ کا کاتب وحی مرتد ہو گیا اس نے کہا تھا میرا فقرہ قرآن میں داخل کر لیا گیا ہے۔ہم میں سے کسی کو اگر ابتلاء آجاتا ہے تو اس پر بڑی خوشی منائی جاتی ہے۔میں کہتا ہوں یہ خوشی کا کون سا موقع ہے احمدیت سے نکل کر کسی دوسرے مذہب میں چلے جانے سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچتا ہے یا نقصان۔اگر نقصان تو پھر خوشی کس بات کی اگر اس لئے خوشی منائی جاتی ہے کہ ہم میں سے کوئی آدمی کم ہو گیا تو کیا جب دوسرے مسلمانوں سے ہزاروں آدمی مرند ہو کر نکل جائیں اس وقت ہمیں خوش ہونے کا حق ہے یا نہیں۔اسی طرح اگر کوئی شخص ہم سے ناراض ہو کر میری ذات پر اعتراض کرتا ہے تو یہ کوئی عجیب بات نہیں۔اس وجہ سے احمدیت پر کیوں حملہ کیا جاتا ہے۔کیا مسلمانوں میں سے ایسے لوگ نہیں نکلے۔جنہوں نے رسول کریم پر گندے سے گندے اعتراض کئے مسلمان مرتدین کے مضامین اور کتابیں پڑھو اور دیکھو کیا محمد اللہ پر ناپاک سے ناپاک الزام انہوں نے نہیں لگائے۔پھر کیا ہم بھی یہ کہیں کہ حنفیت یا وہابیت ایسی ہے ویسی ہے۔اگر ہم سب انہی باتوں میں پڑ جائیں تو بتاؤ اسلام کی حفاظت کا ذریعہ کیا ہو گا۔دنیا میں اختلاف ہوتے ہیں مگر ان کو محدود دائرہ میں رکھنا چاہئے ورنہ اگر ایک نہیں اڑاتا ہے تو دوسرے کا بھی حق ہے کہ انہیں اڑائے۔اور جب سارے ایک دوسرے کی ہنسی اڑانے لگ جائیں گے تو اسلام کی حفاظت کرنے والا کوئی نہ رہے گا سب ہنسی میں لگ جائیں گے۔میں پھر مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ مشترکہ امور میں اتحاد کریں۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ ہمارے خلاف نہ لکھیں۔میں یہ بھی نہیں کہتا کہ میری ذات کے خلاف نہ لکھیں۔ہمارے خلاف جو چاہیں لکھیں۔میری ذات پر جس قدر چاہیں اعتراض کریں۔میں صرف یہ کہتا ہوں کہ جو تحریکیں اسلام کے لئے کی جائیں ان کے خلاف نہ لکھیں بلکہ ان میں متحد ہو جائیں۔میرے خلاف خواہ کچھ لکھیں میں کبھی گلہ نہیں کروں گا۔میں ان کو اجازت دیتا ہوں کہ مجھے جتنی گالیاں چاہیں دے