خطبات محمود (جلد 11) — Page 393
خطبات محمود ۳۹۳ سال ۶۱۹۲۸ ہے، اپنی آبرو قربان کر رہی ہے لیکن وہ مقصد جس کے لئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے وہ ظاہر نہیں ہوتا۔آخر وہ کیا چیز ہے جو ہمیں اپنے پاس سے مال خرچ کرنے پر آمادہ کر رہی ہے اپنے آدمی اپنا وقت اور اپنی طاقت خرچ کرنے پر مجبور کر رہی ہے حتی کہ وہ معاملات جو عام ہیں ہماری جماعت سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ دوسروں کا تعلق ان سے زیادہ ہوتا ہے ان کے لئے مسلمانوں کو کہا گیا کہ چندہ میں شریک ہو جائیں وہاں بھی احمدیوں نے دوسروں سے بہت زیادہ چندے دیے ہیں جو اپنی تعداد کے لحاظ سے تھوڑے ہیں حالانکہ ان باتوں کا زیادہ اثر دوسرے لوگوں پر پڑتا ہوتا ہے اور فائدہ بھی زیادہ انہی کو پہنچتا ہے نہ کہ احمدیوں کو۔ملکا نے احمدی نہ تھے کہ ان کے مرتد ہونے سے ہم پر اعتراض پڑتا۔اگر ہم چاہتے تو ان کے ارتداد پر خوشی منا سکتے تھے اور کہہ سکتے تھے کہ دیکھو غیر احمدیوں کے کیسے کمزور عقائد ہیں کہ ان میں ہزاروں آدمی مرند ہو رہے ہیں مگر ہم نے یہ نہ کہا بلکہ یہ کہا کہ دوسرے مسلمانوں کی ہتک بھی ہماری ہی ہتک ہے اور ہمیں انہیں بچانا چاہئے چنانچہ ہم اس کے لئے کھڑے ہو گئے اور ہم نے شدھی کا پورا پورا مقابلہ کیا۔وہاں ہمارا ایک لاکھ روپیہ خرچ ہوا اور سو مبلغ ہمارے وہاں ایک وقت میں کام کرتے رہے۔اس رقم میں شاید پانچ چھ سو روپیہ دوسرے مسلمانوں کا ہو گا اس سے زیادہ نہیں باقی ۹۹۴۰۰ روپیہ ہماری جیبوں سے خرچ ہوا اور ابھی تک ہو رہا ہے۔اب بھی ہمارے آدمی وہاں کام کر رہے ہیں۔کیا یہ ہم نے اپنی کسی ذاتی غرض کے لئے کیا؟ ہماری اس سے ایک غرض اور ایک ہی مقصد تھا اور وہ یہ کہ ملکانوں کے مسلمانوں میں سے نکل جانے سے اسلام کو نقصان پہنچتا تھا اور اسلام کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔مگر ہمارے مخالفوں کی یہ حالت ہے کہ خواہ کسی وجہ سے کوئی ایک شخص بھی ہماری جماعت سے مرتد ہو جائے تو اس پر اتنی خوشی منائی جاتی ہے کہ جس کی حد نہیں۔تمام حنفی اور وہابی ناچنے لگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں لو وہ جماعت ٹوٹ گئی لوگ احمدیت سے بیزار ہو گئے۔میں پوچھتا ہوں کیا ہم یہی ملکانوں کے ارتداد کے وقت نیز بنگال اور دوسرے علاقوں میں طوفان شدھی کے وقت نہیں کہہ سکتے تھے مگر کیا ہم نے یہی کہا ؟ ہم نے یہ نہیں کہا کہ دیکھو حنفی مرتد ہو رہے ہیں یا وہابی ارتداد اختیار کر رہے ہیں بلکہ ہم نے کہا کہ یہ ہمارے ہی آدمی ہیں جن کو آریہ ورغلا رہے ہیں۔ہم ان کے پاس جائیں گے اور ان کی حفاظت کریں گے۔ہم نے دوسروں سے بھی زیادہ ان کے آدمیوں کے مرتد ہونے پر دکھ محسوس کیا اور ایسے ہی بیقرار ہو گئے جیسے کوئی شخص اپنی اولاد کے ضائع ہونے پر بے چین ہوتا ہے۔یہ تھا