خطبات محمود (جلد 11) — Page 33
خطبات محمود سال 1927ء ہر ایک تغیر میں جو دنیا میں گزرتا ہے ایک نشان ہوتا ہے۔جس طرح دنیا کے تمام دوسرے امور میں خدا تعالیٰ کی قدرت کا مشاہدہ کرتا ہے۔اسی طرح زمانے کے تغیرات میں بھی اس کی قدرت کے نشان پاتا ہے۔اور یقین کرتا ہے کہ جو کچھ بھی دنیا میں ہو رہا ہے۔اس میں کسی نہ کسی قدرت کا اظہار موجود ہے۔اور کوئی نہ کوئی حکمت ان کے اندر ہے۔اس کا حساس دل ان سب باتوں کو فور امحسوس کرلیتا ہے اور یہی لوگ ہوتے ہیں کہ انہیں دیکھنے والے اور سننے والے کہا جائے۔آنحضرت ا کے متعلق لکھا ہے کہ جس وقت تیز ہوا چلتی یا بادل اٹھتا یا بارش ہوتی یا آندھی آتی یا طوفان آتا تو آپ گھبرا جاتے اور بسا اوقات اس گھبراہٹ سے کئی کئی بار آپ گھر کے اندر باہر آتے جاتے اور فرماتے۔معلوم نہیں خدا تعالیٰ کی اس ہوا یا اس بارش یا اس آندھی سے کیا منشاء ہے سے آپ کی اس گھبراہٹ کو دیکھ کر بعض لوگ یہ سمجھتے کہ یہ کوئی بڑا ہی تھڑ والا اور کمزور انسان ہے کہ ان روز مرہ کی باتوں سے بھی گھبرا جاتا ہے۔مگر آپ فرماتے۔پہلی قوموں پر عذاب آئے ہیں۔اب معلوم نہیں کہ یہ طوفان یا یہ بارش یا یہ ہو ا عذاب کے رنگ میں ہے یا رحمت کے رنگ میں۔تو مومن ہر تغیر میں خدا تعالیٰ کی قدرت کا نشان دیکھتا ہے۔اور شقی کی ان کی طرف آنکھ ہی نہیں اٹھتی۔تیز چلنے والی ہواؤں امڈ کر آنے والے بادلوں اور کھل کر برسنے والی بارشوں میں بظاہر خوشی ہوتی ہے اور وہ امید کا موجب ہوتی ہیں۔لوگ ان کو دیکھ کر تسلی پاتے ہیں لیکن خدا کے رسول خدا تعالیٰ کے پوشیدہ ہاتھ کو دیکھتے ہیں۔اور بسا اوقات ان سے خدا کی ناراضی محسوس کرتے ہیں۔اور یہ حال صرف حضرت رسول کریم اللہ کا ہی نہ تھا کہ آپ ان تغیرات سے کہ جن سے لوگ خوشی محسوس کرتے گھبرا جاتے بلکہ تمام دوسرے ماموروں کا بھی کہ جن کا کچھ نہ کچھ حال تاریخ سے ہمیں معلوم ہو سکا ہے یہی حال تھا۔ان انبیاء کو جن کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے چھوڑ کر ان انبیاء کو بھی اگر دیکھا جائے جن کا ذکر قرآن کریم نے نہیں کیا۔اور دوسری قوموں کے انبیاء کو بھی اگر دیکھا جائے۔تو ان سب کی زندگیاں ایسی ہی نظر آتی ہیں کہ وہ بھی ان تغیرات سے گھبرا جاتے ہیں۔حتی کہ چینیوں کے نبی کنفیوشس کا یہی حال تھا۔باوجود بہادر اور دلیر ہونے کے آندھی اور بارش سے گھبرا جاتا تھا۔اور کہتا تھا شائد اس کے اندر کوئی عذاب ہے۔اسی طرح تمام قوموں کے انبیاء کا حال تھا کہ جب کبھی اس قسم کے تغیرات دنیا میں پیدا ہوتے وہ ڈر جاتے کہ کہیں یہ تغیر عذاب کے رنگ میں ہی نہ ہوں حالانکہ دوسرے لوگ ان کو روز مرہ کی ایک معمولی سی بات سمجھ کر ان کی طرف متوجہ بھی