خطبات محمود (جلد 11) — Page 32
خطبات محمود ۳۲ سال 1927ء نمازوں کے ذریعہ کیوں کامیابی حاصل نہیں ہوتی ؟ (فرموده ۱۸ / فروری ۱۹۲۷ء ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ایک شقی انسان اور ایک نیک انسان کے درمیان یہی فرق ہوتا ہے کہ شقی اپنی شقاوت کی وجہ سے بعض نظارے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتا ہے۔مگر باوجود اس کے وہ ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا۔وہ اپنے کانوں کے پاس کئی ایک آوازیں سنتا ہے۔اور ان آوازوں میں سے بعض ایسی آوازیں بھی ہوتی ہیں جو ہر روز اس کے کانوں میں پڑتی ہیں۔مگر پھر بھی وہ ان کی طرف توجہ نہیں دیتا اور ان کی حکمت جاننے کے واسطے کوئی کوشش نہیں کرتا۔پھر اس کے باقی حواس میں بعض بیرونی نقصانات کے اثرات بھی ہو جاتے ہیں۔اور ان اثرات سے وہ بالکل ہی ان نظاروں سے جو وہ ہر روز دیکھتا ہے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا۔اور ان آوازوں کی طرف جو ہر روز اس کے کانوں میں پڑتی ہیں توجہ نہیں کرتا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کا نام صم بکم عمی رکھا ہے۔کہ وہ بہرے ہیں۔گونگے ہیں۔اندھے ہیں کہ باوجود کان رکھنے کے نہیں سنتے۔باوجود آنکھیں رکھنے کے نہیں دیکھتے اور باوجود زبانیں رکھنے کے نہیں بولتے۔پس وہ اسی امر کے مستحق ہیں کہ وہ بھرے کہلائیں۔اندھے کہلائیں۔گونگے کہلائیں۔ان کی آنکھیں بینا کہلانے کا حق نہیں رکھتیں۔ان کے شنوا" کہلانے کے مستحق نہیں۔ان کی زبانیں گویا " کہلانے کی حق دار نہیں۔وہ اپنے عمل سے اپنے اس حق کو کھو بیٹھتے ہیں۔ان کی نظروں کے سامنے دنیا میں کئی قسم کے تغیرات گزرتے ہیں۔لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔جس طرح ایک چکنے گھڑے پر پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ٹھہرتا بلکہ سب یہ جاتا ہے۔اسی طرح ان پر بھی ان تغیرات سے کوئی اثر نہیں ہو تا۔اور جو کچھ وہ ان تغیرات سے دیکھتے ہیں وہ ایک معمولی سی بات کی طرح گزر جاتا ہے۔مگر ان کے مقابل پر ایک مومن کے لئے