خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 178

" خطبات محمود سال 1927ء جبروت سے ڈراتے رہے۔تو کیونکر تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ آپ میں (نعوذ باللہ ) رنگیلا پن پایا جاتا تھا۔پھر میں کہتا ہوں رنگیلا پن کا موقع کھانے پینے یا مرد عورت کے تعلقات کا ہے۔مگر اس وقت بھی رسول کریم ا یہ تعلیم دیتے ہیں کہ جب کھانے بیٹھو تو خدا کا نام لو۔جب کوئی چیز پینے لگو تو خدا کا نام لو کہ یہ سب چیزیں اسی نے تم کو عطا کی ہیں۔اسی طرح جب مرد و عورت کے تعلقات ہوتے ہیں۔اور جب عیش و عشرت کرنے والے چاہتے ہیں کہ کسی قسم کا فکر ان کے پاس نہ آئے۔اور اسی غرض کے لئے شراب پیتے ہیں۔اس وقت کے متعلق بھی آپ فرماتے ہیں۔یہ وقت بھی خدا تعالٰی کو بھولنے کا نہیں۔اس وقت تم دعا کرو کہ تمہارے ملنے کا نتیجہ برانہ پیدا ہو بلکہ اچھا پیدا ہو۔پس جو انسان میاں بیوی کے جائز تعلقات کے وقت بھی کہتا ہے رنگیلا پن مت اختیار کرو۔بلکہ اس موقع پر بھی خدا کو یاد رکھو۔جو پردہ کا حکم دیکر عورتوں کو بالکل مردوں سے علیحدہ رہنے کا حکم دیتا ہے۔جو شراب کا پینا قطعاً چھڑا دیتا ہے۔کیا اسے ان مذاہب کے پیروؤں کا جن میں شراب پینا جائز ہے جن میں مرد اور عورتیں آزادی سے خلا ملا رکھتے ہیں۔جن میں رنگیلا پن کی ساری باتیں پائی جاتی ہیں۔حق ہے کہ ایسے انسان پر اعتراض کریں۔کیا ان اقوام کا فرد رسول کریم ای کو رنگیلا کہہ کر اپنے سیاہ چہرہ کو آپ کے مصفی آئینہ میں نہیں دیکھتا؟ یقینا وہ اپنا ہی گند دیکھتا ہے۔یا پھر وہ پاگل خانہ میں بھیجے جانے کے قابل ہے۔وہ شخص جو اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ رسول کریم نے شراب پینے سے بالکل روک دیا۔پردہ کا حکم جاری کر دیا۔کھانے پینے اور مرد و عورت کے جائز تعلق کے وقت خدا کو یاد رکھنے کی تلقین کی۔موت کو ہر وقت سامنے رکھنے کی ہدایت کی۔ہر وقت خدا کے جلال سے ڈرنے اور اس کی رحمت کی امید رکھنے کا سبق پڑھایا۔اور باوجو د بادشاہ ہونے کے بغیر چھنے اور پتھروں سے کوٹ کر بنے ہوئے آئے پر گزارہ کیا۔آپ کی طرف رنگیلا پن منسوب کرتا ہے۔وہ اگر اول درجہ کا خبیث اور جھوٹا نہیں تو اول درجہ کا پاگل ضرور ہے اور پاگل خانہ میں بھیجنے کے قابل ہے۔ان حالات کے ماتحت جو قوم رسول کریم ﷺ پر اعتراض کرتی اور الزام لگاتی ہے۔اس کے دماغ میں نقص اور عقل میں فتور ہے۔یا وہ ملک میں فتنہ پیدا کرنا چاہتی ہے میں دعا کرتا ہوں کہ اگر ایسی قوم پاگل ہو گئی ہے۔تو خداتعالی اس کے جنون کو دور کرے۔اور اگر شرارت کر رہی ہے تو اس کے فتنے کو مٹائے۔ورنہ اگر یہی حالت رہی تو اتنے فتنے رونما ہوں گے جن کا مٹانا نہ گورنمنٹ کی طاقت میں ہو گا اور نہ پالک کی طاقت میں۔الفضل ۲۳ / اگست ۱۹۲۷ء )