خطبات محمود (جلد 11) — Page 179
خطبات محمود 169 ۲۲ سال 1927ء توکل علی اللہ کا صحیح مفہوم (فرموده ۲۹/ جولائی ۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ایک مومن اور غیر مومن میں سب سے بڑا فرق یہی ہوا کرتا ہے کہ مومن اپنے کاموں کی بنیاد اپنے سے ایک بالا ہستی کے احکام پر رکھتا ہے۔اور غیر مومن اپنے ایمان کی کمزوری یا فقدان کی وجہ سے علی حسب مراتب اپنے کاموں کی بنیاد اپنے سے بالا ہستی پر کمزور طور پر یا بالکل ہی نہیں رکھتا۔پس در حقیقت جب کوئی اپنے آپ کو مومن کہتا ہے۔تو اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اس کے کام دنیا میں محض اس کی عقل اس کی تدبیر اور اس کی کوشش سے وابستہ نہیں۔ان کا دخل اور واسطہ ایک اور ہستی سے ہے جو سب مخلوق کو پیدا کرنے والی ہے اور ان کے سب کاموں کی نگران ہے۔لیکن اگر باوجود اس دعوئی کے مومن کے اعمال سے یہ بات ثابت نہ ہو تو اس کا مومن ہونے کا دعوئی محض ایک دھوکا اور قریب ہو گا۔اگر ایک مومن اور غیر مومن کے کاموں میں فرق نہ ہو۔جس طرح ایک دہریہ کے اعمال اس کی اپنی خواہشات اپنی عقل اور اپنی تدبیر پر مبنی ہوتے ہیں۔اسی طرح اگر ایک مومن کہلانے والے کی خواہشات اور اس کے جذبات اس کے کام اس کی اپنی عقل اپنی تدبیر اور اپنی کوشش پر مبنی ہوں تو دونوں میں کوئی فرق نظر نہیں آئے گا۔اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس شخص کے ایمان نے دوسرے کے کفر کی نسبت اس میں کوئی تبدیلی پیدا کی ہے۔اور جس ایمان نے کوئی تبدیلی نہیں پیدا کی۔اسے کسی نے کرنا کیا ہے۔وہ بالکل بے حقیقت اور بے قیمت چیز ہے۔وہ نہ اس کو نفع دے سکتا ہے نہ دوسروں کو۔جب ایک شخص ایمان لاتا اور مومن کہلاتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ اپنے اندر ان لوگوں کے مقابلہ میں تغیر پیدا کرے جو مومن نہیں کہلاتے کیونکہ جب تک اس کا ایمان اس میں تغیر نہیں پیدا کر تا ایمان نہیں کہلا سکتا اور کچھ قدر و قیمت