خطبات محمود (جلد 11) — Page 177
خطبات محمود 146 سال 1927ء دیدوں سے بائبل سے۔اور ژند اوستا سے بہت کم ہے۔اور میرے نزدیک تمام ان کتابوں سے کم ہے جنہیں خدا کی سمجھا جاتا ہے۔مگر میں چیلنج دیتا ہوں کہ جس قدر قرآن میں انجام اور عاقبت کے متعلق ڈرایا گیا ہے۔اس کا چوتھا حصہ بھی کسی اور کتاب سے نکال کر دکھا دیا جائے۔تو میں اپنی شکست تسلیم کرلوں گا۔اگر کوئی نہیں دکھا سکتا تو میں پوچھتا ہوں۔کیا جس انسان میں رنگیلا پن پایا جائے اور جو انجام سے لا پرواہ ہو۔اس کے حرکات و سکنات میں۔اس کی گفتگو میں اس کی تعلیم میں کیا اس قدر انجام کا خیال رکھنے کی تعلیم ہو سکتی ہے ؟ پھر رنگیلا پن میں عورتوں سے تعلق بھی شامل ہے۔لیکن ذرا بتایا تو جائے کہ دنیا میں کونسی کتاب اور کونسا مذ ہب اور کونسا انسان ایسا ہے۔جس نے پردہ کا حکم دیا ہو۔اور اس وقت دیا ہو جب کہ عورت و مرد آپس میں خلا ملا رکھتے ہوں۔عورتوں کی صحبتوں سے لذت اٹھاتے ہوں۔بغیر کسی جھجک اور حجاب کے کھلے طور پر ایک دوسرے سے ملتے ہوں۔کیا ان سب باتوں سے روک کر پردہ کا حکم جاری کرنا۔اور یہ کہنا کہ مرد و عورت اس طرح ایک دوسرے سے نہ ملا کریں کسی رنگیلے کی تعلیم ہو سکتی ہے اگر نعوذ باللہ رسول کریم میں رنگیلا پن ہوتا تو چاہئے تھا کہ آپ کہتے عورتوں مردوں کو خوب محفلیں گرم کرنی چاہئیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ملنے سے کوئی پر ہیز نہیں کرنا چاہئے۔آپس میں خوب نفسی تمسخر کرنا چاہئے۔مگر آپ نے یہ فرمایا کہ مرد و عورت علیحدہ علیحدہ رہیں اور نامحرم کی شکل تک نہ دیکھیں۔کیا اس کو رنگیلا پن کہا جا سکتا ہے۔پھر رنگیلا پن کی یہ خاصیت ہے کہ جس میں پایا جائے وہ کسی قسم کی ہیبت اور خوف کو اپنے اوپر مستولی نہیں ہونے دیتا۔مگر رسول کریم ﷺ کی ذات کو دیکھو۔صبح شام رات دن خدا تعالٰی کا ذکر کرتے ہیں اور اس کثرت سے کرتے ہیں کہ فرانس کا ایک مشہور مصنف لکھتا ہے۔محمد اے کے متعلق خواہ کچھ کہو مگر اس کی ایک بات کا مجھ پر اتنا اثر ہے کہ میں اسے جھوٹا نہیں کہ سکتا۔اور وہ یہ کہ رات دن اٹھتے بیٹھتے سوائے خدا کے نام کے اس کی زبان سے کچھ نہیں نکلتا۔اور ہر لحہ اور ہر گھڑی وہ خدا کی عظمت اور اس کی محبت کو پیش کرتا ہے۔وہ لکھتا ہے میں کس طرح مان لوں کہ یہ شخص جو سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کو پیش کرنے والا ہے خدا پر افتراء باندھتا ہے۔اب یہ ایک دشمن کی گواہی ہے۔جس نے رسول کریم اے کی زندگی کو تنقید کے طور پر مطالعہ کیا۔پس جب کہ رسول کریم ہر وقت اس طرف توجہ دلاتے رہے کہ ایک بالا ہستی ہے۔اس کی شان اور عظمت بیان کرتے رہے۔اس کے جلال اور