خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 120

خطبات محمود ۱۲۰ سال 1927ء گے۔اس وجہ سے ہر وقت انہیں اپنی جان بچانے کا ڈر رہتا ہے۔پس میں نے مسلمانوں سے جو کچھ کہا ہے وہ قومی اخلاق کی درستی کے لئے کہا ہے نہ کہ فتنہ و فساد پھیلانے کے لئے تعلیم دی ہے۔اب اگر کسی کا اپنی قوم کے اخلاق کی درستی کا خیال رکھنا اور ایسی تعلیم دینا جس سے اس میں جرات اور بہادری پیدا ہوتی ہو اور وہ ذلت اور بزدلی سے بچ سکتی ہو جرم ہے تو اسے میں قبول کرتا ہوں۔مگر اس کی کیا وجہ ہے کہ اس مضمون میں مضمون نگار نے ان سکھ گروؤں کو امن میں خلل ڈالنے والا قرار نہیں دیا جنہوں نے سکھوں کو کرپان رکھنے کا حکم دیا تھا۔اگر وہ سکھ گرو کر پان رکھنے کا حکم دیتے ہوئے امن قائم کرنے والے تھے تو اسی قسم کی تعلیم دینے سے میں کس طرح مجرم بن گیا۔جس طرح انہوں نے اپنے پیروؤں کو کرپان رکھنے کے لئے کہا اسی طرح میں نے بھی مسلمانوں کو ڈنڈا رکھنے کے لئے کہا: ہاں ایک فرق ضرور ہے۔اور وہ یہ کہ انہوں نے کہا ہر وقت کرپان اپنے پاس رکھو۔لیکن میں نے یہ کہا ہے کہ جب تک دشمن کے پاس ہتھیار ہو یا جب تک ہتھیار رکھنے والی قوم کو مسلمانوں کے خلاف بھڑ کانے والے لوگ موجود ہوں۔اس وقت تک اپنی حفاظت کے لئے سونا رکھو۔گویا میرا حکم پھر بھی کم چیز کا ہے۔کیونکہ سکھ گر و صاحب کا تو یہ حکم ہے کہ خواہ خطرہ ہو یا نہ ہو۔کسی اور کے پاس ہتھیار ہو یا نہ ہو سکھ کر پان ضرور رکھیں۔لیکن میں نے یہ کہا ہے کہ جب دوسروں کے پاس ہتھیار ہوں۔جب اپنی جان ومال کا خطرہ ہو۔اس وقت سونا اپنے پاس رکھو۔اگر یہ فساد کی تعلیم ہے اور مضمون نگار نے دیانت داری کے ساتھ اس پر اعتراض کیا ہے۔تو اسے چاہئے تھا سکھوں کے گرد صاحب پر بھی اعتراض کرتا۔لیکن اگر وہ کر پان رکھنے کا حکم دینے والے پر اعتراض نہیں کرتا۔تو سونٹا ر کھنے کا حکم دینے والے پر اس کے لئے اعتراض کرنے کی کیا گنجائش ہے۔سوائے اس کے کہ سمجھا جائے۔مضمون نگار کو مسلمانوں سے تعصب ہے۔اس وجہ سے وہ سب کو ایک آنکھ نہیں دیکھتا۔کیونکہ اگر سکھوں کا گر و کرپان رکھنے کا حکم دیتا ہے۔تو کہتا ہے کیسا امن قائم کرنے والا انسان تھا۔لیکن اگر مسلمانوں کا امام سونٹار کھنے کا حکم دیتا ہے۔تو کہتا ہے یہ فساد پھیلاتا ہے۔لیکن حق یہ ہے کہ سکھوں کے گرو صاحب نے کرپان رکھنے کا جو حکم دیا وہ ٹھیک دیا تھا۔اس وقت سکھوں کو خطرات تھے۔اور دوسرے لوگ ہتھیار رکھتے تھے۔سکھ گرد صاحب نے سکھوں کے اخلاق کی درستی کے لئے کرپان رکھنے کا حکم دیا تھا۔اور نہایت اچھا حکم دیا تھا۔میں اس حکم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔گرو صاحب نے اپنی قوم پر بہت بڑا احسان کیا۔کیونکہ اس کے اخلاق کی نگرانی کی اور اسی طرح میں نے بھی کیا اور حق کیا۔نہ وہ گرو صاحب کسی اعتراض کے نیچے آتے