خطبات محمود (جلد 11) — Page 119
خطبات محمود ۱۱۹ سال 1927ء قسم کی دعا ئیں سکھائی گئی ہیں کہ اے پر میشور ہمارے ہتھیاروں کو طاقت بخش۔ان کی ضر میں کاری ہوں تو پھر اور کونسا زمانہ آ سکتا ہے جب ہتھیار رکھنے کی ضرورت نہ رہے اور ہتھیار رکھنے کو برا سمجھا جائے۔اگر ہتھیار رکھنے سے امن میں خلل پیدا ہوتا ہے اور اگر ہتھیار پکڑنے سے فساد رونما ہوتا ہے تو پھر اس طرح امن میں خلل پیدا کرنے اور فساد پھیلانے میں دنیا کے تمام مذاہب اور ساری حکومتیں شریک ہیں۔مسلمانوں کے متعلق تو کہا ہی جاتا ہے کہ وہ تلوار چلاتے رہے ہیں۔لیکن کیا ہندو دھرم کے بزرگوں رام چندر جی اور کرشن جی نے تلوار نہیں چلائی۔پھر کیا ہندو تسلیم کریں گے کہ ان کا تلوار چلانا بھی امن کے خلاف تھا۔اور دیدوں میں ہتھیاروں سے کام لینے کا جو ذکر ہے وہ بھی امن کی تعلیم کے خلاف تعلیم دی گئی ہے۔اگر نہیں تو کیوں ؟ پس اگر ہتھیار کا پاس رکھنا فساد پیدا نہیں کرتا اور ہتھیار کا ہاتھ میں ہونا بد امنی نہیں پیدا کرتا بلکہ ہتھیار کا ناجائز استعمال بدامنی پیدا کرتا ہے۔تو پھر مجھ پر اس وقت اعتراض ہونا چاہئے جب میں مسلمانوں سے یہ کہوں کہ اپنے ہاتھوں میں سونے لو اور جو ہندو تمہیں ملے اس کا سر تو ڑ دو۔اور جسے اپنے مذہب کے خلاف پاؤ اس کا سر پھوڑ دو۔اگر میری تقریروں اور تحریروں میں سے کوئی اشار تا یا کنایا اس قسم کی ہدایت دکھا دے تو میں اپنی غلطی کا اقرار کرنے کے لئے تیار ہوں۔لیکن جہاں میں نے سونٹار کھنے کے لئے کہا ہے۔وہاں یہ بھی ہدایت کی ہے کہ سوائے ایسے وقت کے جہاں اپنی جان جانے کا خطرہ ہو اور سوائے خود حفاظتی کے اس کا استعمال نہ کیا جائے۔پھر مجھے امن شکن کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے۔میں نے جو سونٹار کھنے کے متعلق ہدایات لکھی ہیں یا بیان کی ہیں۔ان کو اس تعلیم کے سامنے رکھ کر جو ویدوں میں ہتھیاروں کے استعمال کرنے کے متعلق دی گئی ہیں دیکھ لیا جائے۔اگر میرے الفاظ اس تعلیم سے زیادہ محفوظ نہ ہوں اور اس تعلیم سے زیادہ ان میں صلح جوئی اور امن پسندی نہ پائی جائے۔تو پھر مجھ پر جو بھی الزام لگایا جائے اسے میں قبول کرنے کے لئے تیار ہوں۔میں نے جو کچھ کہا ہے وہ یہ ہے کہ خود حفاظتی کے لئے اپنے پاس کم از کم سونٹار کھو۔کیونکہ جب انسان نہتا ہوتا ہے۔اور مقابل میں دوسری قوم کے پاس ہتھیار ہوں تو اس میں بزدلی پیدا ہو جاتی ہے۔اور ہر وقت کے اس خوف اور ڈر کی وجہ سے کہ ہتھیار سے حملہ کر کے نقصان نہ پہنچا دے۔دلیری اور بہادری مٹ جاتی ہے۔اور ایسے لوگ ذلیل ہو جاتے ہیں۔ان کی حالت وہی ہوتی ہے جو خواجہ سراؤں کی ہوتی ہے۔جس طرح ان میں مردانہ جرات اور بہادری نہیں ہوتی ویسی ہی اس قوم کی حالت ہوتی ہے۔جو دوسروں کے مقابلہ میں نہتی ہو۔ایسے لوگ سمجھتے ہیں دوسرے نے ہتھیار استعمال کیا تو کیا کریں