خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 121

خطبات محمود سال 1927ء ہیں۔اور نہ میں۔لیکن اگر کسی نے اعتراض کرتا ہے تو دونوں پر کرے۔میں تو دیکھتا ہوں حضرت مسیح جنہوں نے اتنی نرمی کی تعلیم دی ہے کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دیا۔ان کے متعلق بھی آتا ہے کہ انہوں نے اپنے حواریوں سے کہا کپڑے بیچ کر تلوار خرید لو۔اب ایک طرف تو حضرت مسیح یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دو سرا بھی اس کی طرف پھیر دو۔یہ ایسی تعلیم ہے کہ جس کے نتیجہ میں سوسائٹی تباہ ہو جاتی ہے۔بد معاش اور غنڈے بڑا زور پکڑ سکتے ہیں۔اور کمزوروں کا رہنا محال ہو جاتا ہے۔لیکن یہ نتیجہ ہو گا امن کے متعلق حد سے زیادہ زور دینے اور نرمی کے حد سے زیادہ کرنے کا۔نہ کہ یہ جبر کی تعلیم کا نتیجہ ہو گا۔یہ بظاہر امن ہی کی تعلیم ہے۔لیکن باوجو د امن کی اتنی انتہائی تعلیم دینے کے جو ناقابل عمل ہے۔اور جس پر عیسائی کبھی عمل نہ کر سکے۔اس کے مقابلہ میں حضرت مسیح نے یہ بھی کہا کہ اپنے کپڑے بیچ کر تلواریں خرید لو اس سے معلوم ہوا کہ جہاں حضرت مسیح نے تلوار خریدنے کا حکم دیا ہے۔وہاں قومی اخلاق کی درستی کو مد نظر رکھا ہے۔اور جہاں ایک گال پر تھپڑ کھا کر دو سرا آگے کرنے کو کہا ہے۔وہاں محبت اور نرمی کی تعلیم دی ہے۔بعینہ حضرت مسیح کی طرح میں نے بھی تعلیم دی ہے۔میں نے کہا ہے اگر دو سرے تم پر ظلم بھی کریں تو اسے برداشت کرو اور جوش میں نہ آؤ۔لیکن جب تمہاری جان پر حملہ ہو اور جان جانے کا خوف ہو تو اس وقت دفاع کرد۔اور اس میں بھی یہ بات مد نظر ر کھو کہ کسی کی جان مت لو۔ہاں جس طرح حضرت مسیح نے کہا ہے کہ کپڑے بیچ کر تلوار خرید لو۔اتنا زور میں نے نہیں دیا بلکہ یہ کہا ہے کہ معمولی ڈنڈا قیمت لے لو یا جنگل سے کاٹ لو۔پھر گر و صاحب نے تو سکھوں کو کرپان رکھنے کے لئے کہا ہے۔لیکن میں نے سونٹار کھنے کے لئے کہا ہے۔انہوں نے ہر وقت کرپان رکھنے کے لئے کہا ہے لیکن میں نے کہا ہے جہاں خطرہ ہو وہاں رکھو۔اسی طرح حضرت مسیح نے کہا تھا کہ تلوار خرید و کپڑے بیچ کر لیکن میں نے کہا ہے معمولی سونٹا لے لو عجیب بات ہے حضرت مسیح تلوار خریدنے کا حکم دینے پر امن میں خلل پیدا کرنے والے نہیں بنتے۔سکھ گرد کرپان رکھنے کا حکم دینے پر فساد ڈلوانے والے نہیں قرار دیئے جاتے۔لیکن مسلمانوں کو یہ تعلیم دینا کہ اپنی حفاظت کے لئے سونٹار کھو۔یہ فساد ڈلوانے کی تعلیم بن جاتی ہے۔ہندو یا تو یہ اعلان کریں کہ دیدک تعلیم ، حضرت مسیح کی تعلیم ، سکھ گرو صاحب کی تعلیم بھی فساد ڈلوانے والی ہے۔یا پھر یہ اقرار کریں کہ میں نے جو کچھ کہا ہے اس سے بھی کوئی فساد نہیں پیدا ہو تا۔کیونکہ میری بھی ایسی ہی تعلیم ہے جیسی ان کی ہے۔ہاں اگر یہ ثابت کر دیا جائے۔کہ میں نے مسلمانوں سے کہا ہے