خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 103

خطبات محمود ۱۰۳ سال 1927ء ایسی جگہ اختلاف کا استعمال کرنا جائز نہ ہو گا۔تم رسول کریم الله کا عمل دیکھ سکتے ہو اس سے یہی بات ثابت ہے۔آپ جب مدینہ تشریف لے گئے۔تو اس وقت یہ خطرہ پیدا ہوا کہ مدینہ پر کفار حملہ کریں گے اور جس شہر پر حملہ ہوتا ہے اس میں رہنے والے ہر شخص پر اس کا اثر پڑتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے وہاں کے لوگوں کو جمع کیا اور انہیں بتایا کہ ہم اب یہاں آگئے ہیں۔ہماری وجہ سے لوگوں میں جوش پیدا ہو گا اور وہ حملہ کریں گے جس کا اثر سب پر پڑے گا۔پھر جس طرح ہم پر حملہ کرنے والے ہیں۔اسی طرح تمہارے بھی دشمن ہیں وہ تم پر حملہ کریں گے۔پس گو تم یہودی اور مشرک ہو اور ہم مسلمان ہیں مگر دشمن سے حفاظت کرنے میں مذہب کا تعلق نہیں ہے۔آؤ ہم سب مل کر معاہدہ کر لیں۔جس کی ایک شرط یہ ہو کہ جو کوئی مدینہ پر آکر حملہ کرے خواہ وہ حملہ کسی قوم پر ہو سارے کے سارے مل کر اس کا جواب دیں۔چنانچہ سب نے مل کر معاہدہ کیا۔اور شرطوں میں حد بندیاں کرلی گئیں۔گو یہود نے اس معاہدہ کی پابندی نہ کی۔اور مشرک رہے ہی نہ۔سارے کے سارے مسلمان ہو گئے۔لیکن یہ تو ثابت ہو گیا کہ جہاں بظاہر اتحاد کا سوال تھا وہاں سب کو اکٹھا کر لیا گیا۔اب اس وقت یہ سوال در پیش ہے کہ اسلام کی جو حالت ہے وہ مسلمانوں کو آپس کے اتحاد کی طرف توجہ دلاتی ہے یا نہیں۔ایک طرف عیسائیوں کا نہایت خطرناک حملہ مسلمانوں پر ہو رہا ہے۔عیسائی انجمنوں کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے۔کہ اگر ہمیں ۵ ہزار مبلغ اور لاکھوں پونڈ دیئے جائیں تو تھوڑے ہی عرصہ میں تمام اسلامی حکومتوں کے مسلمانوں اور دوسرے مسلمانوں کو عیسائی بنالیں گے۔جنگ کے بعد مسلمانوں کی حالت خراب ہو گئی ہے۔اور اب اگر ہم پوری کوشش سے کام لیں گے تو بہت جلد کامیاب ہو جائیں گے۔چنانچہ انہیں بکثرت آدمی مل رہے ہیں۔اور اسلامی ملکوں میں نئے مشن کھولے جارہے ہیں۔پانچ ہزار آدمی اگر سال بھر میں سو سو لوگوں کو بھی دھوکا میں لے آئے تو پانچ لاکھ سالانہ مسلمانوں سے نکل کر عیسائیوں میں جا ملیں گے۔اور میں سال میں موجودہ مسلمانوں میں سے ۵ فیصدی مسلمان عیسائی ہو جائیں گے۔پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ آج جو قوم ایک سو آدمی اپنے اندر داخل کر سکتی ہے۔وہ آج سے پانچ سال کے بعد ہزار آدمیوں کو داخل کرنے کی طاقت رکھے گی۔اور اس طرح ۵۰٬۴۰ سال میں سارے اسلامی عالم کی حالت سخت خطر ناک ہو جائے گی۔دوسری طرف ہندو ہیں۔جو اپنے سارے اختلافات کو چھوڑ کر یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ مسلمانوں کو یا تو ہندوستان سے نکال دیں گے یا ہندو بنا لیں گے۔اس فیصلہ کی ابتداء آریوں کی طرف سے ہو