خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 102

خطبات محمود سال 1927ء خدا تعالیٰ کی طرف سے اس طرح ہے۔مگر دوسرے کی خاطر اسے قربان کرنے اور چھوڑنے کے لئے تیار ہو جائے تو لازماً اس کے دل سے خدا تعالیٰ کی محبت نکل جائے گی۔پس اس قسم کا مطالبہ کرنا کسی کے لئے جائز نہیں ہو سکتا۔یہ خشیت اللہ کو دلوں سے مٹاتا ہے حالانکہ خشیت اللہ ہی مذہب کی جان ہے۔دیکھو اسلام صرف مسلم کو فائدہ دیتا ہے۔مگر خشیت اللہ ہندو عیسائی اور یہودی کو بھی فائدہ پہنچاتی ہے۔اگر یہ نہ ہو تو کوئی ہندو مسلمان نہ ہو۔کوئی عیسائی مسلمان نہ ہو۔کوئی یہودی مسلمان نہ ہو۔خشیت اللہ کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتی۔یہ فطرت سے تعلق رکھتی ہے اور مذہب کو جلا دینا اس کا کام ہے۔اس کا بیج سب انسانوں میں پایا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بچے مذہب میں لوگ داخل ہوتے رہتے ہیں۔اور یہی باعث ہوتا ہے کہ بسا اوقات جب کسی ہندو کے سامنے خدا کا نام لیا جاتا ہے تو اس کی آنکھیں نیچی ہو جاتی ہیں۔نرمی اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے اور چہرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ محبت کے جذبات اس میں پیدا ہو گئے ہیں۔ایسا ہی عیسائیوں ، یہودیوں اور سکھوں میں بھی ہوتا ہے۔اور اسی کا نام خشیت اللہ ہے۔یہی لوگوں کو ہدایت کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔اور ہر ایک کے لئے ضروری ہے کہ خشیت اللہ کو قائم رکھنے کی کوشش کرے اور کسی مذہب کے لوگ اس کی قربانی نہ کرا ئیں۔مگر دنیا میں ایسے مواقع بھی بکثرت آتے ہیں جہاں مذہب کے اختلاف کا اثر اصل کام پر نہیں پڑتا۔مثلا مل کر تجارت کرنا ہے۔اس میں احمدی اور غیر احمدی کا کوئی سوال نہیں پیدا ہو سکتا۔تجارت تو ہندو اور سکھ سے بھی مل کر ہو سکتی ہے یا مثلاً شفا خانہ بنانا ہے۔اس کے بنانے کے لئے ہندو سکھ اور مسلمان مل جاتے ہیں تو اس سے کسی کے مذہب پر کوئی حملہ نہیں ہوتا۔اور ملنے سے کسی قسم کی ضمیر کی قربانی نہیں کرنی پڑتی۔لیکن کسی ایسی جگہ جہاں سب اقوام کے لوگوں کے ملنے سے مثلا شفاخانہ کھل سکتا تھا اور وہ نہ ملیں تو سب کے سب مجرم ہوں گے کہ انہوں نے خلق خدا کو ایک فائدہ سے اس لئے محروم رکھا کہ ان میں مذاہب کا اختلاف تھا۔حالانکہ مذہب کے اختلاف کا اس کام پر کچھ اثر نہ پڑتا تھا۔جیسا کہ میں نے ابھی مثال دی ہے کہ ایک افسر فوج کے لئے بھرتی کرتے ہوئے ایک چھوٹے قد کے آدمی کو رد کر دے گا۔لیکن ایک چائے گھر میں اس کے ساتھ داخل ہونے سے انکار نہ کرے گا۔اسی طرح ہسپتال میں جہاں سے ہر ایک مذہب کا آدمی فائدہ اٹھاتا ہے کام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہو تا۔اور ایسا شخص مجرم ہو گا جو اختلاف مذہب کی وجہ سے اس میں شریک نہ ہو گا۔اس لئے