خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 203

203 الهلال مسلمان خود مسیح کو آسمان پر چڑھا رہے ہیں۔عیسائیوں کو اوپر چڑھایا اور اس وجہ سے کہ محمد رسول اللہ کو انہوں نے زیر زمین بتایا۔ان کو نیچا دکھایا۔محمد رسول الله ال مسیح سے افضل ہیں اور ہر شان میں افضل ہیں۔بہر حال آپ تو اونچے ہی ہیں۔مگر مسلمانوں نے آپ کو نیچا کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود نیچے ہو گئے اور عیسائی ان سے اونچے ہو گئے۔پھر جب مسلمانوں نے مسٹر گاندھی کو اونچا چڑھایا۔تو میں نے اس وقت یہ کہا کہ پہلے عیسی کو آسمان پر چڑھانے سے مسلمانوں کو سزا ملی تھی کہ عیسائی ان پر قابض ہو گئے۔اب مسٹر گاندھی کو اونچا چڑھانے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ہندو مسلمانوں کے سر چڑھ جائیں گے۔جب میں نے یہ کہا تو لوگوں نے اس کی مخالفت کی۔بلکہ مسلمانوں نے تو اس بناء پر مجھے گالیاں بھی دیں اور کہا تم کیوں ایسا کہتے ہو۔پھر یہ بات ان لوگوں تک ہی نہ رہی بلکہ بعض کمزور احمدیوں میں سے کہتے تھے کہ اس قسم کی باتیں کہنے میں ہمیں جلدی نہیں کرنی چاہئے ہمیں اس معاملہ میں سوچ لینے دو۔پھر بعض ایسے بھی تھے جو میرے پاس آتے اور عجیب طریق پر کہتے کہ بس اب تھوڑے دنوں تک مسٹر گاندھی کی حکومت ہو جائے گی اور ہم پس جائیں گے۔یہ لوگ اس وقت ہمیں کھا جائیں گے مگر میں نے ان سے یہی کہا کہ اگر کچھ ہو سکتا ہے تو صرف یہی کہ مسلمانوں پر ہندوؤں کو غلبہ حاصل ہو جائے گا۔کیونکہ جو شخص خدا کے مامور کو نیچے گرائے گا وہ نیچے ہی گرے گا اوپر نہیں اٹھ سکتا۔مسلمانوں نے خدا کے مامور کو چھوڑا بلکہ اسے گرانے کی کوشش کی اور ایک مشرک اور بت پرست کی طرف گئے اور اسے بلند کرنا چاہا۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ان پر اس قوم کا غلبہ ہو جائے گا جس کا وہ بت پرست انسان ایک فرد ہے۔یہ وہ بات تھی جو آج سے چھ سال پہلے میں نے کسی تھی اور آج بعینہ پوری ہو رہی ہے۔آج ایک طرف مسلمان مسٹر گاندھی کو خفت کے ساتھ چھوڑ کر پیچھے آرہے ہیں۔اور دوسری طرف مسٹر گاندھی کی قوم ان سے جو سلوک کر رہی ہے وہ ظاہر ہے۔ہندو جابجا مسلمانوں کو مار رہے ہیں اور انہیں ہر طرح نقصان پہنچا رہے ہیں۔مسلمان مار کھا کر نقصان اٹھا کر شور مچاتے ہیں۔مگر ہندو خود ہی مارتے ہیں اور خود ہی شور مچاتے ہیں۔ان کے شور ڈالنے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ مار تو لیا اب ان کو دوسری طرح بھی نقصان پہنچائیں۔مسلمان بھی شور مچاتے ہیں۔لیکن ان کے شور مچانے سے نہ کچھ بنتا ہے اور نہ بنے گا۔جب تک وہ یہ مانتے رہیں گے کہ دنیا کی اصلاح کے لئے کوئی مصلح ہندوؤں میں سے آسکتا ہے یا عیسائیوں میں سے آسکتا ہے۔جب تک مسلمان یہ مانتے رہیں گے کہ ہندوؤں اور عیسائیوں میں سے مصلح آسکتا ہے تب تک وہ اسی حالت میں رہیں گے۔اور ان کا یہ تنزل دن بدن