خطبات محمود (جلد 10) — Page 202
202 مشکل ہے کہ وہ جب تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان نہ لائیں گے تب تک خدا تعالی پر بھی ایمان نہیں لا سکیں گے۔لیکن ایک احمدی اس بات کو خوب سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ماموروں کو مان کر ہی انسان کو خدا پر حقیقی ایمان پیدا ہوتا ہے۔دیکھو جو شخص آم کو خربوزہ کہے۔یا خربوزہ کو انجیر بتائے۔اس کے متعلق ہم کہیں گے کہ اسے نہ آم اور خربوزہ میں تمیز ہے اور نہ خربوزہ اور انجیر کی شناخت حاصل ہے۔اسی طرح جو شخص خدا تعالٰی کے کسی راستباز کو دیکھ کر یہ کہے یہ سچا نہیں یا کسی نبی کے متعلق کے یہ نبی نہیں تو معلوم ہو جائے گا کہ اسے انبیاء کی شناخت نہیں اور اسے تھوڑا بہت ایمان جو خدا تعالیٰ پر ہے۔وہ اسے ورثہ میں ملا ہے۔پھر مسلمانوں میں ایمان اور یقین کا نہ ہونا اس بات سے بھی ثابت ہے کہ انہوں نے مسٹر گاندھی کو جو ایک بت پرست اور مشرک انسان ہیں کبھی تو ولی کہا۔کبھی مجدد قرار دیا۔کبھی امام بتایا اور کبھی روحانیت میں سب سے بڑھا ہوا کہا۔جو اس بات کا ثبوت تھا کہ جس طرح ایک شخص کو آم اور خربوزہ میں شناخت نہیں یا خربوزہ اور انجیر میں تمیز نہیں۔اسی طرح ان کو بچے اور جھوٹے میں فرق معلوم نہیں۔مامور اور غیر مامور میں امیتاز حاصل نہیں۔اگر مسلمانوں کو یہ یقین ہو تا کہ کچی روحانیت آنحضرت ﷺ کے متبعین کے ساتھ وابستہ ہے۔اگر مسلمانوں کے اندر یہ یقین ہو تاکہ اگر کوئی اسلام سے ایک انچ بھی ادھر ادھر ہو جائے تو وہ روحانیت سے کاٹا جاتا ہے تو وہ ایسے آدمی کو اسلام کی مدد کے لئے کھڑا نہ سمجھتے جو اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور اس کی روحانیت کے قائل نہ ہوتے۔مگر باوجود اس کے کہ مسٹر گاندھی ایک مشرک ہیں مگر مسلمان لیڈر اور علماء انہیں اپنا راہ نما سمجھ کر بڑے ادب سے ان کے سامنے بیٹھتے۔پھر یہاں تک ہی نہیں وہ ان کے پیروں پر بھی پڑ جاتے اور کہتے سب کچھ آپ ہی ہیں۔حالانکہ رسول کریم ﷺ کے پاؤں پڑنا بھی جائز نہیں۔مگر مسلمان اس مشرک کے پاؤں پڑتے رہے۔ہم کہتے ہیں آج اگر رسول کریم ﷺ بھی زندہ ہوتے تو ہم ان کے بھی پاؤں نہ پڑتے۔کیونکہ خدا تعالٰی کے سوا کسی کے پاؤں پڑنا جائز نہیں۔اور کسی کے آگے سجدہ کرنا درست نہیں۔پھر ایک وقت تھا کہ یہ لوگ کہتے تھے کہ مسٹر گاندھی اس زمانے کے لئے خدا کی طرف سے مبعوث کیا گیا ہے اور علی الاعلان کہتے تھے کہ یہ امام ہے مجدد ہے مصلح ہے مگر آخر خدا کے کوڑوں سے چلاتے ہوئے مسٹر گاندھی کو انہوں نے چھوڑا۔ال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے مسلمانوں کے تنزل کا باعث مسیح کو آسمان پر چڑھانا اور آنحضرت ﷺ کو زمین کے نیچے مدفون بتاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ دیکھ کر کہ الله