خطبات محمود (جلد 10) — Page 204
204 بڑھے گا ہی کم نہیں ہو گا۔ہاں جس دن وہ یہ سمجھیں گے کہ اب صرف امت محمدیہ سے ہی مصلح آسکتا ہے اس دن ہو سکتا ہے کہ ان سے تکلیفیں دور ہوں اور اس ذلت سے نکلیں۔بہرحال حالات نے بتا دیا کہ یہ لوگ خود تنزل کی طرف جا رہے ہیں اور یہ جو ہم نے کہا تھا کہ جو لوگ خد ا کے مامور کو چھوڑ کر مسٹر گاندھی کے ساتھ ہو رہے ہیں وہ غلطی کر رہے ہیں اور ان کو اس غلطی کی سزا بھگتنی پڑے گی یہ بالکل درست تھا۔کیونکہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان سخت معتوب ہو رہے ہیں۔باقی رہی امید یہ بھی مسلمانوں میں نہیں جن قوموں میں امید ہوا کرتی ہے وہ خود کشی پر آمادہ نہیں ہوتیں۔لیکن مسلمان برابر خود کشی کی طرف جا رہے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں خدا تعالیٰ پر امید نہیں رہی۔جب بھی کوئی طریق اختیار کرتے ہیں تو یہ کہ ہم اگر نہ لیں گے تو دوسروں کو بھی نہ لینے دیں گے۔یہ وہ اس لئے کہتے ہیں کہ انہیں امید نہیں ہوتی کہ انہیں کچھ مل سکتا ہے یا خدا تعالیٰ میں یہ طاقت ہے کہ کچھ دے سکے۔چونکہ انہیں خود امید نہیں ہوتی اس لئے وہ اپنے آپ کو پہلے ہی محروم سمجھ لیتے ہیں۔اور یہ سمجھ کر کہ ہمیں تو کچھ ملنا نہیں یہ کہہ دیتے ہیں کہ اوروں کو بھی نہ لینے دیں گے۔تو امید کا پہلو بھی ان سے جاتا رہا اور اس وجہ سے یہ سمجھتے ہی نہیں کہ عقد ان کے لئے خدا کچھ کرے گا۔ان میں سے بیسیوں مصنف بیسیوں تعلیم یافتہ اور بیسیوں لوگ مجھے ملے ہیں جو میری باتوں کو سن کر حیرت سے کہتے ہیں کہ کیا آپ کو یقین اور امید ہے کہ مسلمان پھر اٹھیں گے۔کیونکہ ان کے لئے یہ ناممکن ہے۔جب ان کو امید ہی نہیں تو وہ مسلمانوں کے ابھرنے اور ترقی کرنے کی دعا کیسے کر سکتے ہیں۔کیونکہ دعا امید کے بغیر ہو نہیں سکتی۔پس مسلمانوں میں یہ امید بھی اب نہیں رہی کہ وہ پھر اٹھ سکتے ہیں یا خدا ان کے لئے کچھ کر سکتا ہے۔پھر بجز و انکسار بھی اگر ان میں ہوتا تو بھی وہ ذلیل نہ ہوتے مگر باوجود گر جانے کے بھی سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے ہیں اور یہ خیال کئے بیٹھے ہیں کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔حالانکہ آج تک وہ نہ کچھ کر سکتے ہیں اور نہ اب کر سکتے ہیں۔کیونکہ ان میں عجز و انکسار ہی نہیں۔اس عجز و انکسار کے نہ ہونے سے ایک طرف تو وہ کام کرنے سے گئے کیونکہ وہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم بڑے ہیں ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں اور دوسری طرف وہ خدا کے آگے جھکنے سے رہے کیونکہ ان کو خیال ہے کہ خدا کے آگے جھکنا کوئی فائدہ مند بات نہیں۔کیونکہ جو کچھ ہونا ہے وہ ہمارے زور بازو سے ہونا ہے۔عجز و انکسار کا نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان میں کبر و غرور ہے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ کبر اور غرور کے ساتھ جو دعا کی جائے وہ قبول ہو۔اول تو کبر و غرور دعا کی طرف آنے ہی نہیں دیتا اور اگر کوئی ادھر