خطبات محمود (جلد 10) — Page 42
42 تباہ ہوا اور جب تک ہر ساعت آگے نہیں بڑھتا۔وہ اپنے آپ کو شیطان کے قبضے میں دیتا ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ دوست اپنے علم کو اپنے ایمان کو اور اپنے عرفان کو بڑھائیں۔دلائل کا نام عرفان نہیں اور احساس اس کو نہیں کہتے کہ صرف خیال ہی کر لیا کہ میں فلاں کام کرلوں۔بلکہ احساس اس کا نام ہے کہ خدا کے ساتھ تعلق مضبوط ہو۔گویا خدا اور اس کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی ہو۔اور انسان یہ سمجھتا ہو کہ اگر میں اس سے الگ ہو کر پرے ہٹنا چاہوں تو بھی نہیں ہٹ سکوں گا۔غرض کہ وہ سمجھے اب میرے تعلقات خدا تعالیٰ سے ایسے مضبوط ہو چکے ہیں کہ اگر چاہوں بھی تو بھی خدا کو نہیں چھوڑ سکتا۔پس یہ کہنا کاش خدا مل جائے۔یہ عرفان نہیں بلکہ عرفان یہ ہے کہ انسان سمجھے اب میں خدا سے ایسا مل گیا ہوں کہ اب میری سب طاقتیں مضمحل ہے گئی ہیں۔اور مجھ میں ہمت نہیں رہی کہ اس تعلق کو توڑ کر کہیں اور جا سکوں۔میری حالت تو کیلے سے بندھے ہوئے گھوڑے کی طرح ہے کہ وہ کہیں جا نہیں سکتاکہ یہ احساس ہے اور یہ عرفان کہلاتا ہے۔جو ہو شخص اس مقام پر پہنچ گیا کہ وہ سمجھتا ہے میرا لگاؤ خدا تعالیٰ سے اب ایسا ہو گیا ہے کہ جہاں کہیں جاؤں گا۔خدا ہی کا بندہ کہلاؤں گا۔وہ اگر چاہے بھی کہ چھوڑے تو نہیں چھوڑ سکتا اور اگر وہ چھوڑے تو خدا خود اس کو اپنی طرف لے آتا ہے۔ایسے آدمی کی مثال پٹے والے کتے کی ہوتی ہے وہ اگر آوارہ بھی ہو جائے تو لوگ اسے اسی مالک کا سمجھتے ہیں جس کا پٹہ اس کے گلے میں پڑا ہوتا ہے۔جدھر بھی وہ جاتا ہے لوگ پکڑ کر اسے مالک کے پاس لے آتے ہیں۔اسی طرح اگر کوئی شخص احساس پیدا کر لے اور علم اور عرفان میں ترقی کرے تو عبودیت کا پٹہ اس کے گلے میں پڑ جاتا ہے۔وہ اگر کسی جذبہ کے ماتحت خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو توڑ کر دوسروں کے دروازوں پر پھر رہا ہوتا ہے تو بھی سب اسے یہی کہتے ہیں یہ خدا ہی کا بندہ ہے۔پس عرفان کو بڑھاؤ۔جب یہ مقام حاصل ہو جائے تو انسان پھر خدا کو چھوڑ کر کہیں جا نہیں سکتا۔بھلا سوچو تو ایک اپنے آقا کو چھوڑ کر چلا جائے۔تو کیا اس کا آقا اسے چھوڑ دیتا ہے۔اور اس کو تلاش کر کے واپس گھر نہیں لے آتا۔اگر کسی کی بلی بھاگ جاتی ہے تو وہ اس کے پیچھے پیچھے بھاگا پھرتا ہے۔اور آرام نہیں لیتا۔جب تک اسے واپس نہیں لے آتا خواہ واپس لانے میں بلی رضا مند ہو یا نہ ہو۔مگر وہ اسے لے آتا ہے۔کسی شخص کا ایک طوطا اڑ جائے۔تو وہ بھی اس کے لانے کی کوشش کرتا ہے۔پر کیا خدا ہی ایسا ہے کہ وہ اپنے بندہ کو جس کے گلے میں اس کی عبودیت کا پٹہ پڑ چکا ہو واپس نہیں کتا اگر