خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 41

41 محبت کا نتیجہ تو قربانی ہے مگر کتنے ہیں جو محبت کا دعوی کرتے ہوئے پھر قربانی کرتے ہیں۔قربانی تو اس وقت ہی کوئی شخص کرے گا جب اسے محبت کا احساس بھی ہو۔دیکھ لو ماں کو اپنے بچے کی محبت کا احساس ہوتا ہے پھر وہ ہر قسم کی قربانی اس کے لئے کرتی ہے اور ہر وقت اس کے سکھ کا خیال رکھتی ہے۔خواہ اس میں اسے خود دکھ میں مبتلا کیوں نہ ہونا پڑے۔پس وہ خیال جس میں احساس نہیں ہوتا بے فائدہ ثابت ہوتا ہے اور اکارت جاتا ہے اور ایک خیال وہ ہوتا ہے۔جس کے ساتھ احساس بھی ہوتا ہے ایسا خیال ضائع نہیں جاتا۔اور وہ خیال جس کے ساتھ احساس پایا جاتا ہے۔دراصل خیال کہلانے کا وہی مستحق ہے اور وہی ہے۔جس سے کچھ نتیجہ بھی برآمد ہوتا ہے مثلاً عبادات میں غور کر لو۔ایک شخص احکام کی پیروی کرتا ہے اور مالی قربانیاں بھی کرتا ہے لیکن اگر وہ یہ محاسبہ نہیں کرتا کہ مجھے کس حد تک قربانی کرنی چاہئے اور میں کس حد تک قربانی کر رہا ہوں کیونکہ احساس سے ہی ترقی پیدا ہوتی ہے۔اور احساس کی علامت ہے قربانیاں کرنا۔اگر وہ ایک حد تک قربانیاں کرتا ہے اور پھر رک جاتا ہے۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اندر اس حد تک احساس نہیں جس حد تک کہ چاہئے اور جب احساس نہیں تو ترقی بھی نہیں۔پس سچا ارادہ وہی ہوتا ہے جس کے ساتھ احساس ہو۔اور اس حد تک ہو کہ اس سے پوری پوری قربانیاں کرانے والا ہو تاکہ وہ ترقی پا سکے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ اس حالت کو پیدا کر لیا۔جو احساس کی حالت کہلاتی ہے اور ربّ زدنی علما " (طه ۱۱۵) کی کیفیت کو اپنے اندر پیدا کریں۔اگر آنحضرت اللہ کو ترقی اور قربانیوں کی ضرورت تھی۔تو ہماری جماعت کے لوگوں کو کیوں ان کی ضرورت نہیں۔پس میں پھر کہتا ہوں اور بطور نصیحت کہتا ہوں کہ رب زدنی علما کی حالت کو اپنے اندر پیدا کرو۔لوگ چند دلائل کو سن لیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں۔بس ہم نے غور کر لیا۔ہم نے مان لیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام برحق تھے۔اب ہمیں کیا ضرورت ہے کہ مزید غور کرتے پھریں۔لیکن وہ جانتے نہیں اتنی سی بات سے انہوں نے سب کچھ کر نہیں لیا بلکہ اس سے تو ابھی وہ ڈیوڑھی پر آئے ہیں اور میدان عمل تو ابھی آگے ہے۔اگر وہ یہاں پہنچ کر رک جائیں تو پھر زنگ لگ جانے کا خطرہ ہے۔جس سے خوف ہے کہ وہ پھر اسی جگہ نہ جاگریں جہاں سے اٹھ کر وہ یہاں تک پہنچے تھے۔خدا نے یہ فیصلہ قرار دیا ہوا ہے۔قانون شریعت میں بھی یہی ہے اور نیچر میں بھی ایسا ہی پایا جاتا ہے کہ جو آگے قدم نہیں بڑھاتا تباہ کر دیا جاتا ہے۔نیچر کے قانون میں بھی یہی ہے۔جو کھڑا ہوا وہ