خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 43

43 لاتا۔کیا ایک بندہ کی قیمت بلی اور طوطے جتنی بھی نہیں؟ پس اگر عرفان پیدا ہو جائے تو عبودیت پیدا ہو جاتی ہے اور جب عبودیت پیدا ہو گئی تو ایک انسان مرتد بھی اگر ہونا چاہئے تو نہیں ہو سکتا۔عارضی جوش اگر ان تعلقات میں خلل پیدا کر دے اور انسان عارضی جوش سے پیدا شدہ خلل کے سبب جانا بھی چاہتے تو خدا جانے نہیں دیتا۔لوگوں کی بھینسیں اور گائیں کھرلیوں سے اسے تڑا کر چلی جاتی ہیں۔مگر لوگ انہیں چھوڑ نہیں دیتے۔بلکہ پکڑ کے لے آتے ہیں۔کیونکہ وہ ان کے مالک ہوتے ہیں۔اور کون ہے جو اپنے مال کو یوں جانے دے۔پس تم بھی اپنے آپ کو خدا کا مال بناؤ تاکہ اس کے بعد تم بھاگنا چاہو تو بھاگ نہ سکو۔یہی عرفان ہے اور یہ عرفان جوں جوں بڑھتا جائے گا عبودیت کا رسہ مضبوطی سے گلے میں پڑتا جائے گا۔پس میں پھر کہتا ہوں کہ ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو خدا تعالی کا مال بنائیں تا وہ خود ان کی حفاظت کرے۔ہماری جماعت میں ایسے لوگ بھی ہیں۔جن کے لئے بہت سی باتیں ٹھوکر کا باعث ہو جاتی ہیں۔مگر میں جانتا ہوں کہ باوجود ٹھوکر کھانے کے وہ جماعت سے الگ نہیں ہو سکتے۔مگر ان کے بالمقابل ایسے بھی ہیں۔جن کو اگر وہی ٹھوکر لگے تو وہ بھاگ سکتے ہیں۔بعض بڑے بڑے آدمیوں کو میں جانتا ہوں کہ اگر انہیں کوئی ابتلا آئے تو وہ چلے جائیں گے مگر ان کے مقابلہ میں بعض ایسے ادنیٰ اونی آدمیوں کو بھی جانتا ہوں کہ وہ نہیں جائیں گے کیونکہ وہ عارف ہو چکے ہیں اور عارف ابتدائی حالت میں غلطیاں بھی کر سکتا ہے لیکن خدا اسے ان غلطیوں کے سبب چھوڑ نہیں دیتا۔اور اگر وہ جاتا بھی چاہے تو خدا اس کی گردن پکڑ لیتا ہے کہ جاتا کہاں ہے اب تو تو میرا بندہ ہے۔یہ ہے وہ مقام جس کے بعد انسان خطرات سے محفوظ ہو سکتا ہے۔اگر ہماری جماعت کے اکثر لوگ اس مقام کو حاصل کر لیں۔تو پھر کسی فتنہ و فساد کا ڈر نہیں رہ جاتا۔کیونکہ اس مقام پر پہنچ کر پاؤں میں محبت کی بیڑیاں پڑ جاتی ہیں۔ہاتھوں میں محبت کی زنجیریں پڑ جاتی ہیں۔گلوں میں محبت کے طوق ڈال دئے جاتے ہیں۔پس ہماری جماعت کو چاہئے کہ دل سے اس احساس کو جو خدا سے دور کر دے ، دور کر دے۔اور اس احساس کو پیدا کرے جو خدا کے قریب کر دیتا ہے اور عرفان کے مقام کو پانے کی کوشش کرے۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری کمزوریوں کو دور فرمائے۔اور ہمیں ایمانی کمی اور قدم کے ڈگمگانے سے بچائے۔تاہم اس سے دور نہ جاپڑیں اور وہ ہر وقت ہماری مدد کرتا رہے اور ہم کو وہ