خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 306

306 جتنی زیادہ قربانیوں کا تم سے مطالبہ کیا جائے اتنی تمہارے دلوں میں بشاشت ہو۔اس کا لازمی نتیجہ ہو گا کہ تمام قومیں تمہاری طرف اپنے آپ کو منسوب کریں گی۔اور تمہاری ہی جماعت دنیا میں پھیلی ہوئی ہو گی اور دوسری تمام قومیں ملیا میٹ ہو جائیں گی۔دیکھو یہ قرآن کریم اور یہ تعلیم کتنا عظیم الشان انعام ہے۔اور کتنی بڑی نعمت ہے۔لیکن اس نعمت سے فائدہ اٹھانے کے لئے کچھ شرائط بھی ہیں۔ایک شرط تو یہ ہے کہ عمل اور زبانی طور پر شکریہ ادا کرو اس نعمت کی قدر کرو۔دوسری شرط یہ کہ قربانیاں کرو۔تیسری شرط یہ کہ ان قربانیوں میں بشاشت تمہارے اندر ہو۔اللہ تعالی نے ہمیں کس قدر سامان ترقیات کے عطا کئے ہیں۔ایک خزانہ دیا ہے جو کبھی ختم ہونے میں نہیں آتا ایک سمندر ہے جس کی تہ کا کوئی پتہ نہیں۔اور ایسی رحمتیں اور نصرتیں اور تائیدیں کی ہیں کہ ہم ان کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔لیکن باوجود اس کے ہم بہت لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ ہم کیسے قربانیاں کریں ہم کو تو کھانے کو نہیں ملتا اور دوسری قوموں کے پاس سب کچھ ہے ان کے گھر بالوں سے بھرے ہوئے ہیں۔مگر ان لوگوں کو یہ علم نہیں کہ دوسری قوموں کو جو کچھ ملتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی کتوں کے آگے روٹی ڈالے اور اس میں زہر ڈال دے۔اب تم بتاؤ کہ کیا تم دوسرے کتوں کے آگے روٹی دیکھ کر وہ روٹی اپنے کتے کے آگے بھی ڈال دو گے۔خواہ وہ بھوکا ہی ہو۔جب تم اپنے کتنے کے آگے زہر آلود روٹی نہیں ڈالتے تو اللہ تعالیٰ بھلا اپنے بندوں کو وہ چیز کیونکر دے سکتا ہے جس میں ان کی ہلاکت ہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تم خیال کرتے ہو کہ ہم نے ان کفار کو جو اموال دیئے ہیں وہ ان کی ترقی کا موجب ہیں اور ہم انہیں ترقی دینا چاہتے ہیں۔نہیں یہ تو ہم انہیں ہلاکت کے لئے دیتے ہیں۔پس دو ہی صورتیں ہیں یا تو اللہ تعالی کو ہمارا علم نہیں اور یا ہماری کوششوں میں فرق ہے۔نہ تو یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم نہیں کہ ہم بھوکے مر رہے ہیں اور نہ یہ بات ہے کہ ہماری کوششوں میں فرق ہے۔ہمیں کھانا بھی آتا ہے۔جب دونوں باتوں میں سے کوئی بھی بات نہیں تو تیسری وجہ ہوگی اور وہ یہی ہے کہ وہ اموال ہمارے لئے بہتر نہیں وہ اس زہریلی روٹی کی طرح ہیں جو کوئی آقا اپنے غلام کو بلکہ اپنے کتے کو بھی نہیں دیتا۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ طبیب کہتا ہے کہ چاول مت کھانا۔اب ایک بچہ خواہ کس قدر روئے کیا ہاں اپنے بچہ کو چاول کھلائے گی۔تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی مال انسان کے دین اور عرفان کے لئے مضر ہوتا ہے۔تو کیا خدا تعالی کی کچی خیر خواہی میں جتنی بھی نہیں۔