خطبات محمود (جلد 10) — Page 305
305 ذریعہ اظہار کیا جائے۔اور اس کو یاد کیا جائے۔دوسرے اپنے عمل سے۔عمل سے اس طرح کہ ان نعمتوں کو موقع کے مطابق کرو۔جس بات کے لئے اس نے کوئی طاقت دی ہے اس کے لئے تم ان نعمتوں کو حاصل کرو اور ایسے طور پر ان کا استعمال کرو کہ جس سے اللہ تعالیٰ کی ہتک نہ ہو۔کوئی نعمت کبھی مفید نہیں ہوا کرتی۔جب تک اس کے لئے محنت نہ کی جائے۔اور اسے مفید بنانے کے لئے کوشش نہ کی جائے۔مثلا پلاؤ ہے۔اس کو وہ شخص کیسے کھا سکے گا جس کا معدہ خراب ہے اس کے اندر ایک چاول جانا بھی اس کے لئے نقصان دہ ہو گا۔اسی طرح ایک بڑے مکان میں وہ شخص کیسے رہ سکے گا جو وہمی ہے اور بڑے مکانوں کی رہائش سے ڈرتا ہے۔اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انعام کے صحیح استعمال کے لئے طاقتوں اور محنت کی بھی ضرورت ہے۔نعمت سے فائدہ اٹھانے کے لئے قربانی کی ضرورت ہے مثلا کنواں تو پانی کا موجود ہے لیکن اس سے پانی نکالنے کے لئے بھی تو محنت کی ضرورت ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف یہی ضروری نہیں کہ تم عمل اور زبان سے شکریہ ادا کرو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ تم ہر قسم کی قربانیاں بھی کرو۔اپنے آپ کو تم اسی طرح ذبح کر دو جس طرح اونٹ ذبح کیا جاتا ہے تب تم اللہ تعالیٰ کے دوسرے انعامات کے بھی وارث ہو گے۔دیکھو اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود پر جو معارف کھولے گئے اس کی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے قربانیاں کیں۔پس تم بھی کامل طور پر اللہ تعالیٰ کے انعامات سے تبھی فائدہ اٹھاؤ گے جب تم اپنے آپ کو پورے طور پر اونٹ کی طرح ذبح کر دو گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وانحر اور نحر اونٹ کے ذبح کرنے کو کہتے ہیں خدا تعالیٰ نے نحر کا لفظ رکھا ہے۔جس میں دو باتیں بیان فرمائی ہیں۔ایک تو یہ کہ قربانیاں کرد دوسرے یہ کہ خوشی سے قربانیاں کرو۔یعنی قربانیاں منظور ہوں گی جو خوشی سے کی جائیں۔بعض قربانیاں تو انسان کو مجبورا کرنی پڑتی ہیں مثلاً اللہ تعالی کی طرف سے اس پر بعض ابتلا آتے ہیں۔لیکن یہاں یہ قربانیاں مراد نہیں بلکہ وہ قربانیاں مراد ہیں جن میں تمہاری شاہ رگ کٹ جائے۔اور شاہ رگ کے کاٹنے سے تمام خون باہر نکل جاتا ہے اور کچھ باقی نہیں رہتا۔تو یہاں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسی قربانیاں کرو کہ تمہارا کچھ باقی نہ رہے اور پھر ان قربانیوں میں تم خوشی اور سرور محسوس کرو۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا ان شا ننک هوا لا بتر کہ تمہارا مقابلہ کرنے والی قومیں نیست و نابود ہو جائیں گی۔ابتر اسے کہتے ہیں کہ جس کی طرف کوئی قوم منسوب نہ ہو۔تو فرمایا کہ اول تو ایسی قربانیاں کرو کہ تمہارا کچھ باقی نہ رہے۔یعنی سب کچھ قربان کر دو۔اور دوسری بات یہ ہے کہ تم خوشی سے وہ قربانیاں بجا لاؤ۔تمہارے اندر ملال یا رنج نہ پیدا ہو بلکہ