خطبات محمود (جلد 10) — Page 307
307 حالانکہ وہ تو آپ ہی ماں ہے آپ ہی باپ ہے۔آپ ہی خالق ہے۔آپ ہی رازق ہے۔پس یہ جو تم دیکھتے ہو کہ دوسروں کو ملتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایسی روٹی ہے جس میں سنکھیا پڑا ہوا ہے۔اب کتنی حیرانی ہے کہ تم خیر خواہی کو بد خواہی سمجھتے ہو۔پھر بہت ہیں جو نعمت کو جانتے ہیں لیکن اس کا شکریہ عملاً اور قولا نہیں ادا کرتے مثلاً قرآن اللہ تعالی کی نعمت ہے۔اسے نہیں پڑھتے۔حضرت مسیح موعود کی طرف سے جو ذخیرہ معارف و اسرار کا ملا ہے۔اسے توجہ سے نہیں پڑھتے اور اگر پڑھتے ہیں تو اس پر عمل نہیں کرتے۔اب جب تک اس نعمت کے شکریہ میں قربانیاں نہ کی جائیں۔تب تک اس نعمت سے کیسے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔کونین کے جیب میں پڑے رہنے سے تو بخار نہیں اتر جاتا۔روئی خواہ ایک من سر پر اٹھاؤ اس سے بھوک نہیں اتر سکتی۔تیسرا گروہ وہ ہے جو اول تو قربانی نہیں کرتا اور اگر کرتا ہے تو بوجھ محسوس کرتا ہے۔بلکہ بسا لوقات جب کوئی قربانی کے لئے اور خدمت کے لئے تحریک کرتا ہے تو اس سے بجائے اس کے کہ خوش ہوں اس پر ناراض ہو جاتے ہیں اور لڑ پڑتے ہیں حالانکہ اتنا نہیں سوچا جاتا کہ کہاں ماں کبھی ناراض ہو سکتی ہے کہ اس کو اس کے بچہ کے فائدہ کے لئے کوئی بات یاد دلائی جائے۔اس کو تو تحریک کرنے والے اور یاد دہانی کرانے والے دوست کا اس قدر شکر گذار ہونا چاہئے کہ اس کا گویا غلام ہو جائے۔کیونکہ اول تو مومن کا اپنا فرض ہے کہ وہ خدمت دین کے لئے ہر موقعہ پر قربانی کے لئے تیار رہے۔لیکن اگر اس کو دوسرا دوست تحریک کرتا ہے تو اگر اس کے اندر ذرہ بھی بلکہ رائی برابر بھی ایمان ہوتا تو تمام عمر اس کا غلام ہو جاتا۔پھر بعض لوگ ہیں جو قربانی تو کر دیتے ہیں لیکن بشاشت نہیں پاتے۔پس یاد رکھو کہ جس قربانی میں بشاشت نہیں وہ قربانی منظور نہیں۔جتنا جتنا تم بوجھ اٹھاؤ اتنا ہی تمہارے اندر نور اور سرور پیدا ہو۔در حقیقت انسان اگر سوچے تو اس کو معلوم ہو جائے کہ جتنی یہ قربانیاں کرتا ہے۔اتناہی اس کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔دنیا کی نعمتیں ایک تھان کی طرح ہیں جو اس نے اپنے سر پر اٹھائے ہوئے ہیں۔اب جوں جوں تھان اس کے سر پر سے اتارے جائیں گے توں توں اس کا بوجھ ہلکا ہوتا جائے گا مثلاً اگر دس کا بوجھ اس کے سر پر ہے اور اس میں سے تین کا بوجھ اٹھا لیا گیا ہے تو وہ خوش ہو گا کہ پہلے دس کا بوجھ تھا اب سات باقی رہ گئے ہیں چلو کم از کم تین کی کمی تو ہو گئی۔اسی طرح جو شخص قربانیاں کرتا ہے وہ اپنا بوجھ ہلکا کرتا ہے۔کیونکہ اس کو کم نعمتوں کا سوال ہو گا۔بلکہ جتنا بوجھ ہلکا ہو گا اتناہی وہ خوش ہو