خطبات محمود (جلد 10) — Page 284
284 ایسا کام نہیں جسے وہ چھوڑ سکیں مثلاً یہ بھی ناممکن ہے کہ وہ سوسائیٹیوں میں جانا چھوڑ دیں اور یہ بھی نا ممکن ہے کہ وہ لیکچر چھوڑ دیں۔اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ بچوں کو یا اور نو مسلموں کو پڑھانا چھوڑ دیں اور یہ بھی ناممکن ہے کہ ملاقاتیں چھوڑ دیں۔ہاں اگر ہو سکتا ہے تو یہ ہو سکتا ہے کہ ریویو کے کام کی تخفیف ان سے کی جائے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اگر دوست ریویو میں اعلیٰ درجہ کے مضامین نکالیں تو ان کا ہاتھ بٹ جائے گا۔کیونکہ کم از کم ہماری جماعت میں ایک سو انگریزی دان دوست ہیں۔جن میں ہر آدمی بھی اگر تین صفحہ کا مضمون بھی سال بھر میں لکھے تو دو سال تک صرف ان کے ہی مضامین سے اخبار چل سکتا ہے۔اگر نصف بھی سمجھ لیں اور تین ماہ پانچ صفحہ کا مضمون لکھیں۔تب بھی ریویو کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔اور ایسا مضمون جسے تین ماہ میں بڑی تحقیق کے ساتھ لکھا جائے نہایت اعلیٰ درجہ کا علمی مضمون تیار ہو سکتا ہے۔اور اس طرح بھی ہو سکتا ہے کہ مثلاً ہزار صفحہ میں سے اگر ۴۰۰ صفحہ بھی چھانٹ لیا جائے تو وہ نہایت اعلیٰ درجہ کے مضامین ہوں گے۔یورپ کے لوگوں میں یہ قاعدہ ہے کہ وہ ہر مضمون نہیں چھاپ دیتے۔پس جب تک ریویو میں اس قسم کے اعلیٰ مضامین نہ نکلیں جو اسلام کے تمدن اسلام کے اخلاق اور اسلام کی سیاست اور مدنیت غرض اس کے مختلف شعبوں کے متعلق ہوں تب تک اسلام کا رخب یورپ میں قائم نہیں رہ سکتا اور اسلام نہیں پھیل سکتا۔اور جو انگریزی نہیں جانتے وہ دو طرح سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ایک تو اسلام کی مالی خدمت میں پہلے سے زیادہ با قاعدہ ہو جائیں۔اگر صرف باقاعدگی اور اخلاص کے ساتھ فرض ادا کریں تو بھی بہت بڑے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔اور جو لوگ کہ ست بیٹھے ہوئے ہیں اور بجائے کام کرنے کے دوسروں پر اعتراض کرتے رہتے ہیں وہ سمت بیٹھنا اور اعتراض کرنا چھوڑ دیں اور اس کی بجائے دعاؤں کے ساتھ کام لیں۔تجربہ بتاتا ہے کہ زیادہ تر اعتراض کرنے والے ہی کام میں سست ہوتے ہیں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملے گی کہ اعتراض کرنے والا سلسلہ کی پورے طور پر خدمت بجا لاتا ہو۔آج تک ایک مثال بھی اس قسم کی نہیں ملتی کہ معترض کو کام کرنے کی توفیق ملی ہو۔کیونکہ اعتراض کرنے والے کے دل میں محبت اور اخلاص نہیں ہوتا۔اور محبت اور اخلاص کے ہوتے ہوئے کبھی اعتراض نہیں پیدا ہوتے۔پھر تجربہ یہ بھی بتاتا ہے کہ جب کبھی بھی اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔تو سلسلہ کی تباہی ہوتی ہے۔اور یہ کہنا کہ ہم نے اخلاص اور ہمدردی سے اعتراض کیا ہے۔یہ بھی بالکل غلط