خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 283

283 تھے اور ہمارے متعلق متواتر اخباروں میں اس کثرت کے ساتھ ذکر ہوتا رہا کہ ایک نمائندہ نے ہمارے ایک دوست کو کہا کہ آپ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ آپ کو یہاں کس قدر عزت ملی ہے۔آپ کے خلیفہ کی آمد پر اس کے متعلق اخباروں میں چھ چھ سات سات دفعہ حالات شائع ہوئے ہیں۔حالانکہ یہاں بڑے سے بڑے بادشاہ کا بھی سوائے ایک دو دفعہ کے اخبار میں ذکر نہیں ہوتا۔تو ایک میرا وہاں جانا خود ایک ایسی تحریک تھی جس سے ان کے طبائع میں ایک جوش پیدا ہو چکا تھا پھر امیر فیصل والا معاملہ درمیان میں آگیا جس سے سلسلہ کی شہرت ہوئی۔اور پھر باوجود اس کے رک جانے کے ایسے شاندار افتتاح کا ہونا جس سے نہ صرف انگلستان میں بلکہ تمام دنیا میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔اس نے اور بھی ان لوگوں کے دلوں میں غیر معمولی رغبت اسلام کی طرف پیدا کر دی ہے۔غرض تھوڑے سے روپیہ کے خرچ کرنے سے اتنی عظیم الشان لہر کا پیدا ہو جانا ایک ایسی بات ہے کہ اب اگر ہماری غفلت سے یہ تحریک ٹھنڈی پڑ جائے اور اس کے مفید نتائج نہ نکلیں تو پھر شائد کروڑوں روپیہ بھی خرچ کرنے سے اس قسم کی تحریک نہ پیدا ہو سکے۔جب تک میلان نہ ہو تب تک اشتہار دینا بھی کچھ کام نہیں دیتا۔اس لئے ان حالات کے ہوتے ہوئے اب ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہماری طرف سے سلسلہ کا لٹریچر ایسے رنگ میں شائع ہو کہ جس سے ان لوگوں کو سلسلہ کی طرف پورے زور سے توجہ پیدا ہو۔اور ان تک لڑیچر پہنچانے کا یہی طریق ہے کہ انگریزی دان دوست انگریزی میں مضامین لکھنے کی طرف توجہ کریں۔میں نے بہت سے دوستوں کو اس طرف توجہ دلائی تھی لیکن افسوس کہ سوائے ایک دو دوستوں کے اور کسی نے اس طرف توجہ نہیں کی۔یہ خیال کرنا کہ انگلستان کے مبلغ ہی مضامین بھی لکھیں گے۔لوگوں کو بھی ملیں گے۔ملاقاتیں بھی کریں گے۔سوسائیٹیوں میں بھی شامل ہوں گے۔لیکچر بھی دیں گے۔اور رپورٹیں بھی یہاں بھیجیں گے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ پدی آسمان کو سر پر اٹھائے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک ہی آدمی حساب کتاب بھی رکھے۔رپورٹیں بھی بھیجے۔لیکچر بھی دے اور سوسائیٹیوں میں بھی شامل ہو۔ملاقاتیں بھی کرے اور ہر وقت مکان پر بھی موجود رہے۔اور پھر مضامین بھی لکھے۔حالانکہ صرف ملاقات کرنا ہی ایک ایسا کام ہے۔کہ جس پر بعض دفعہ دو دو تین تین گھنٹے صرف ہو سکتے ہیں اور ملاقات میں ناممکن ہے کہ ایک شخص جو دور سے گھر پر ملاقات کے لئے آیا ہے اسے چند منٹ مل کر وہیں چھوڑ دے اور دوسرے کاموں میں لگ جائے اور پھر باقی کاموں میں سے بھی کوئی