خطبات محمود (جلد 10) — Page 285
285 طریق ہے۔اس سے نہ کبھی اصلاح ہوئی اور نہ ہو گی۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کسی کو جوتے مارے اور کہے میری غرض تو اس سے تمہاری عزت پیدا کرنا ہے۔کیا یہ کبھی ہو سکتا ہے کہ سلسلہ کے کاموں اور مرکزی کاموں کے لئے محبت و اخلاص بھی ہو اور پھر اعتراض بھی کرتے چلے جائیں۔پس بجائے اعتراضات میں طاقتیں خرچ کرنے کے خدمت دین میں اپنی طاقتیں خرچ کرو۔دوسرا ذریعہ مدد کرنے کا یہ ہے کہ اپنے دلوں میں خشیت پیدا کر کے خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں کہ ان موجودہ تغیرات کو ہمارے لئے مفید کرے۔یہ دو طریق ہیں جن سے جماعت کے دوست مدد کر سکتے ہیں۔یاد رکھو کہ سست اور سکتے معترض جماعت اور سلسلہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ان کی غفلت کا بوجھ ان کی ہی گردن پر ہو گا۔یہ کبھی نہیں ہو گا کہ کام کرنے والوں کے انعامات اور اجر ان کو دیئے جائیں۔بلکہ وہی لوگ نعمتوں کے وارث ہوں گے۔جو بچے طور پر دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔لیکن وہ لوگ جو خود تو غفلتوں میں پڑے ہوتے ہیں۔اور دوسرے کام کرنے والوں پر اعتراضات کرتے رہتے ہیں۔وہ خدا تعالی کی درگاہ سے دھتکارے جائیں گے۔بعد اس کے کہ ان کو بلایا گیا تھا۔اور وہ مارے جائیں گے بعد اس کے کہ وہ زندہ کئے گئے تھے۔آخر میں میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی سچا تقویٰ اور اخلاص عطا کرے۔اور ہر قسم کی ٹھوکروں اور ابتلاؤں سے محفوظ رکھے۔میں ایک جنازہ بھی پڑھوں گا جو ہماری جماعت کے مولوی محمد امیر صاحب کے نوجوان بیٹے تھے۔اور پروفیسر عطاء الرحمان صاحب کے چھوٹے بھائی تھے۔وہ جہاں فوت ہوئے ہیں۔صرف مولوی صاحب ہی ان کا جنازہ پڑھانے والے تھے۔(الفضل ۷ دسمبر ۱۹۲۶ء)