خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 187

187 غلام اور آقا میں بڑا فرق ہے۔اب غلام اگر کہے کہ میں آگے بڑھوں یا کم از کم اس طرح کروں جس طرح آقا کرتا ہے۔تو یہ اس کی گستاخی ہے۔مامورین کو جو درجے حاصل ہیں وہ ہر ایک کو نہیں۔ان کی ہتک ہے کہ ایک شخص اس رنگ میں ان کی نقل اتارنا شروع کر دے۔ان کی نقل کرنے کی اور بہت سے باتیں ہیں۔ان کے اخلاق ہیں ان میں ان کی نقل کرنی چاہئے۔جو فیصلے وہ خدا کے الہام کے ماتحت کرتے ہیں یا جو فیصلے وہ اپنی میجسٹریل پاور کے ساتھ کرتے ہیں۔اور اس کے لئے جو الفاظ استعمال کرتے ہیں وہ ان کے لئے ہی مخصوص ہوتے ہیں۔دوسروں کا کام نہیں کہ ان کو اختیار کریں۔ہر ایک آدمی مخلص نہیں۔وہ جب اس قسم کی باتوں کو سنتا ہے۔تو ٹھٹھا کرتا ہے۔دیکھو ایک مجسٹریٹ اگر کسی کو چور کہتا ہے۔تو اسے کوئی کچھ نہیں کہتا۔لیکن کوئی دوسرا آدمی ایسا نہیں کہہ سکتا۔اور اگر تو لوگ اسے دیوانہ سمجھتے ہیں کہ یہ کون ہے جو اس کو چور کہتا ہے اس میں شک نہیں کہ اس بات سے ہر شخص یہ سمجھے گا کہ چور کی چوری کو ظاہر کرتا ہے۔مگر اس پر غیبت کا الزام بھی تو دھرا جائے گا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ غیبت بہت ہی بری شے ہے۔صحابہ نے پوچھا۔اگر کسی کا عیب دیکھ کر کہیں تو یہ بھی کیا غیبت ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر تم عیب دیکھے بغیر کوئی بات کہتے تو تم جھوٹے ہوتے۔غیبت یہی ہے کہ سچی بات کو بیان کیا جائے اسے پس وہ شخص جو فی الواقعہ چور کو چوری کرتے دیکھتا ہے۔ایک مجسٹریٹ کی طرح ہر گز اس کو چور نہیں کہہ سکتا۔اور اگر وہ کہے تو ایک حد تک نقصان پہنچتا ہے۔اسی طرح ایک مامور اور ایک غیر مامور کا معاملہ ہے۔غیر مامور مطلقاً مامور کی طرح کسی کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی یہ اس کا منصب ہے کہ وہ اسے کہے۔پس ہماری جماعت کے دوستوں کا یہ کام نہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس بات میں نقل اتاریں نقل کرنے کے لئے اور بہت سی باتیں ہیں۔انہیں نقل کرنا چاہئے۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دوست اس طرف توجہ نہیں کرتے۔یہاں تک کہ ہمارے اخبار نویسوں نے بھی اس طرف توجہ نہیں کی۔اور میں دیکھتا ہوں کہ ابھی ان کی تحریروں میں خشونت استعمال کی جاتی ہے۔اور سخت لفظ درج ہوتے ہیں۔اس خطبہ کا محرک آج کا ایک خط ہوا ہے جو باہر سے آیا ہے۔اس میں دو شخصوں کا ذکر ہے کہ وہ مذہب کی تحقیق میں مصروف ہیں۔ان میں سے ایک شخص تعلیم یافتہ ہے۔ایم اے ہے۔ایک کالج میں پروفیسر ہے۔وہ بھی مذہب کی تحقیقات میں مصروف ہے۔ہمارے آدمیوں نے جب سنا تو اس کے پاس گئے اور کہا کہ آپ آج کل مذہب کی تحقیقات میں مصروف ہیں آپ احمدیت کی طرف بھی