خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 186

186 ایسی صورتوں میں اس کا قرضہ لینا بد دیانتی ہے۔اب ایک اور شخص ہے جس کے پاس کچھ نہیں وہ ایک دوسرے شخص کے پاس جاتا ہے اور صاف صاف کہدیتا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں مجھے کوئی امید بھی نہیں۔باقی اگر میرے پاس آگیا تو میں دیدوں گا ایسا شخص دیانتدار ہے۔کیونکہ وہ صاف صاف سب کچھ کہدیتا ہے۔اور یہ قرض دینے والے کا کام ہے کہ وہ اسے دے یا نہ دے۔غرض معالمات کی صفائی ضروری چیز ہے۔جو نہیں دے سکتا وہ وقت مقرر نہ کرے۔صاف صاف کہدے خبر نہیں میں کب دے سکوں۔اس صورت میں یہ شخص قرض لے سکتا ہے کہ بالکل سچ بتا دے۔یا یہ کہ اگر اس کو فی الواقع کسی آمد کی آمید تھی اور وہ وقت پر نہ ہو سکی تو پھر اس کا فرض ہے کہ وہ وہ آپ جائے اور صاف صاف کہدے کہ میں اس وجہ سے وقت پر ادا نہیں کر سکا۔کوئی دوسرا وقت مقرر کرو اس پر ادا کر دوں گا۔پس معاملات کی صفائی ضروری چیز ہے۔اس کے بغیر دنیا میں کسی کو یقین نہیں آسکتا۔یہاں تک کہ کسی کے ایمان پر بھی یقین نہیں آتا۔پس یہ انسان کے اخلاق ہی ہیں کہ وہ اس کے دل کی کیفیات کو ظاہر کرتے ہیں۔محبت ، ہمدردی ، ظالموں کا مقابلہ ، مظلوموں کی مدد ، قومی فرائض کی ادائیگی ، ایثار، قربانی ، جھوٹ سے نفرت ، سیچ سے پیار ، دیانت ، معاملات میں درستی ، علم کے حاصل کرنے کی محبت اور نمونے کے سب اخلاق ہیں۔اور انہی کو لوگ دیکھتے ہیں۔پس ہر ایک شخص کا کام ہے کہ ان نمونوں کو نہایت عمدگی کے ساتھ ظاہر کرے۔میں اس موقعہ پر ان لوگوں کو بھی متوجہ کرتا ہوں جو ایڈیٹر ہیں یا کسی نہ کسی طرح ان کا اخباروں کے ساتھ تعلق ہے یا مضمون نگار ہیں۔یا مصنف کہ ان کی زبانیں شائستہ ہونی چاہیں۔ان کے قلموں سے وہ باتیں نکلیں جو لوگوں کی ہدایت کا باعث ہوں۔اور ان کی قلموں سے وہ باتیں ہرگز نہ نکلیں جو لوگوں کی ٹھوکر کا سبب ہوں وہ اخباروں والے کہ ان کی باتیں سینکڑوں ہزاروں کے پاس پڑھی جاتی ہیں۔وہ اگر ایڈیٹر ہیں تو اور اگر نامہ نگار ہیں تو انہیں اپنی تحریروں کو ایسا بنانا چاہئے کہ ان پر کسی کو گرفت کرنے کا موقعہ نہ ملے۔میں نے کئی دفعہ بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں اور تقریروں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔اس قسم کی تحریریں لکھنا مامورین کا کام ہوتا ہے۔یا جو خدا کی طرف سے الہام پانے والے ہیں۔اور لوگوں کی ہدایت کے لئے کھڑے کئے گئے ہیں ان کی نقل کرنا بے وقوفی ہے۔ایک ضرب المثل ہے " ایاز قدر خود بشناس" ایاز آخر ایاز تھا اور محمود محمود۔