خطبات محمود (جلد 10) — Page 188
188 توجہ کریں۔اس نے کہا میں یہ تو تسلیم کرتا ہوں کہ تعلیم کے لحاظ سے احمدی اچھے ہیں۔لیکن اخلاق کے لحاظ سے وہ ایسے اچھے نہیں کہ میں ان کی طرف توجہ کر سکوں۔معاملات میں بھی بعض احمدی درست نہیں۔پھر اگر ان کی تحریریں دیکھی جائیں۔تو وہ سخت الفاظ سے بھری پڑی ہیں۔اس نے کہا مجھے ایک احمدی ملا جو گالیاں دیتا تھا۔یہ شخص سچا ہو یا نہ ہو لیکن اس سے ہمیں سبق ملتا ہے۔اور ہمیں چاہئے کہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں۔اور آئندہ اس قسم کی قابل شکایت باتوں سے رک جائیں۔میں نے یورپ کے لوگوں کو دیکھا ہے۔وہ جذبات کو قابو میں رکھنے کے عادی ہیں۔خدا کو خوش کرنے کے لئے نہیں۔بلکہ اس وجہ سے کہ اخلاق اور اخلاص سے مال ملتا ہے۔اور جہاں ان کو یہ امید نہ ہو وہاں وہ بھی بد اخلاقی کرتے ہیں۔تو ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے جذبات پر قابو رکھیں۔اور لوگوں کو اپنے عمدہ اخلاق سے اپنی طرف کھینچ لیں۔پس ایسی تحریریں جن میں خشونت ہوتی ہے لوگوں کے لئے ٹھو کر کا باعث ہو جاتی ہے۔اس لئے ہمارے مضمون نویسوں اور ایڈیٹروں کو اس سے احتراز کرنا چاہئے۔پس میں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ یہ کوئی اخلاق نہیں کہ جن کی طرف انہیں بلایا جاتا ہے۔گالی سے ہرگز کامیابی نہیں ہوتی۔نہ ہی سختی سے فتح حاصل ہوتی ہے۔میری تحریروں کو دیکھ لو میں فخر سے نہیں کہتا۔مباہات اور تکبر کے طور پر نہیں کہتا کہ میں نے کبھی کوئی سخت لفظ استعمال نہیں کیا۔لیکن اگر کبھی کوئی ایسا لفظ آبھی جائے۔تو دشمن سے دشمن بھی جو ہے وہ بھی میری طرز تحریر کو دیکھ کر کے گا کہ یہ غلطی سے ہو گیا ورنہ اس شخص کی عادت نہیں کہ سخت الفاظ استعمال کرے۔اس نرمی سے میں نے کبھی کسی سے شکست نہیں کھائی۔میرے بالمقابل بڑے بڑے سخت الفاظ استعمال کئے گئے۔مگر میں نے کبھی کوئی سخت لفظ استعمال نہیں کیا۔بلکہ اپنے مطالب کو نہایت نرم الفاظ میں پیش کیا۔پس میں چاہتا ہوں کہ ہمارے دوست بھی اسی رنگ کو اختیار کریں۔اور اپنے جذبات پر قابو رکھیں۔یہ غلط خیال ہے کہ نرم الفاظ استعمال کرنے سے ہار جائیں گے۔بے شک بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں۔جو میری تحریروں کے متعلق کہتے ہیں کہ گالیاں دیتا ہے مگر کہنے کو تو لوگ قرآن کے متعلق بھی یہی کہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق بھی یہی کہتے ہیں۔مگر کیا ان کے کہنے سے یہ بات سچ ہو جائے گی؟ بڑا دشمن جو زیادہ اعتراض کرتا ہے۔وہ پیغامی ہے۔ان سے اگر چہ مجھے عام طور پر رو در رو باتیں کرنے کا اتفاق نہیں ہوا لیکن پھر بھی جن لوگوں سے ایسا موقعہ ملا ہے۔اور جنہوں نے اس قسم کے اعتراضات افراد سلسلہ پر کئے۔میں نے ان سے پوچھا کہ اچھا مجھ پر کوئی اعتراض کرو۔تو وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے کہ نہیں آپ کے متعلق ہم کچھ نہیں کہتے۔ہم دوسروں کے متعلق کہتے ہیں