خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 168

168 چاہئے یہ خیال کر کے خدا تعالیٰ کی راہ میں سب کچھ دے دینا بھی اس کے لئے دو بھر نہیں ہو سکتا۔دیکھو جو شخص خود جائداد پیدا کرتا ہے۔اسے یہ بھی امید رکھنی چاہئے کہ اس کی اولاد بھی ایسی ہی ہوگی کہ جائداد بڑھائے گی۔جو شخص اس بات سے ڈرتا ہے کہ اگر میں وصیت میں جائداد دے دوں گا تو اولاد کیا کھائے گی وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس کی اولاد نالائق ہو گی۔ایک شخص جس کے پاس کچھ نہ تھا۔اس نے کوشش کر کے کئی ہزار کی جائداد پیدا کر لی۔تو اسے امید رکھنی چاہئے کہ اس کی اولاد اس سے بھی بڑھ کر ترقی کرے گی۔اور اس رنگ میں اولاد کی تربیت کرنی چاہئے کہ وہ دنیا میں ترقی کر سکے۔ورنہ جو اولاد کی اس طرح تربیت نہیں کرتا اور یہ سمجھتا ہے جو کچھ میں نے کمایا ہے اسی پر اولاد کا گزارہ ہو گا۔وہ اپنی اولاد کو نالائق سمجھتا ہے۔اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔انا عند ظن عبدی بیا۔بندہ میرے متعلق جیسا خیال کرتا ہے میں ویسا ہی کر دیتا ہوں اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ ہماری اولاد اور نالائق ہو گی ہم جو دے جائیں گے اس پر اس کا گزارہ ہو گا اسے بڑھا نہیں سکے گی تو خدا تعالیٰ ایسی اولاد سے یہی معالمہ کرے گا کہ اسے نالائق بنا دے گا۔لیکن اگر یہ خیال ہو کہ ہماری اولاد ہم سے بھی زیادہ ہوشیار اور قابل ہو گی اور دین کی خدمت کرنے میں ہم سے بھی بڑھ جائے گی تو میں سمجھتا ہوں ایسی اولاد کو خدا تعالٰی ضائع نہیں کرے گا۔کسی خدا کے بندہ کا قول ہے کہ کسی بچے مومن کی سات پشتوں تک کسی کو سوال کرتے نہیں دیکھا جائے گا۔پس وصیت کرتے ہوئے احباب کو یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے جو اعلیٰ حصہ مقرر کیا ہے۔وہ ۱/۳ ہے اور ہر مومن کو کوشش کرنی چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ حصہ کی وصیت کرے۔ہاں اگر اپنی مجبوریوں کی وجہ سے ۱۱۳ حصہ کی نہ کر سکے تو ۱/۴ حصہ کی کرے۔اگر ۱/۴ حصہ کی نہ کرے سکے تو ۱/۵ کی کرے اگر ۱۱۵ حصہ کی نہ کر سکے تو ۱۱۶ حصہ کی کرے۔اور اگر ۱۶ حصہ کی نہ کر سکے تو ا حصہ کی کرے۔اگر ۱۱۷ حصہ کی نہ کر سکے تو ۱۸ حصہ کی کرے۔اگر ۱۸ حصہ کی نہ کر سکے تو 1/9 حصہ کی کرے اور اگر کچھ بھی نہ کر سکے تو ۱/۱۰ حصہ کی کرے۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر دوست اس رنگ میں اپنے فرائض ادا کریں گے۔تو خدا کے فضل سے بہت جلد کامیابی حاصل ہو گی۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ لوگوں کی کوششوں میں برکت ڈالے۔اور جو اسلام کی اشاعت کا کام اس نے ہمارے ذریعہ جاری کیا ہے۔اسے ہماری ستی سے نقصان نہ پہنچے بلکہ دن بدن ترقی کرے۔میں ابھی ایک سفر سے واپس آیا ہوں مجھے یہ دیکھ کر خصوصیت سے خوشی ہوئی کہ ہمارا