خطبات محمود (جلد 10) — Page 167
16 - خراب ہو جانے کی صورت میں بھی کرے گا کیونکہ پہلے اسے ۲۵-۳۰ ہزار سالانہ کی آمد ہوتی ہے اور اب وہ ۵ - ۱۰ ہزار سالانہ قرض لیکر گزارہ کرتا ہے۔پھر وہ پہلے کی طرح کس طرح خدمت کر سکتا ہے۔یہی حال زمینداروں کا ہے فصل ماری جائے تو انہیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔بعض دفعہ سیالکوٹ کے ضلع کے متعلق ہوا ہے کہ اگر بارش نہ ہو تو ایک علاقہ ایسا ہے جہاں بیج کی قیمت بھی وصول نہیں ہو سکتی۔کنوؤں کا پانی کھاری ہے وہ کھیتوں کو دیا نہیں جا سکتا۔اور اگر بارش نہ ہو تو فصل تباہ ہو جاتی ہے۔ایسی حالت میں زمیندار بھی مجبور ہو جاتے ہیں۔ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ ریزرو فنڈ ہو۔میں اس خطبہ کے ذریعہ جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ چندہ خاص کے متعلق میری جو تحریک شائع ہو چکی ہے۔اس کی طرف جن لوگوں نے توجہ نہیں کی۔یا ان کی توجہ میں کمی رہ گئی ہے۔وہ پورے طور پر متوجہ ہو کر اسے پورا کریں۔اور دوسرے اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وصیت کی تحریک خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اور اس کے ساتھ بہت سے انعامات وابستہ ہیں۔ابھی تک جنھوں نے وصیت نہ کی ہو وہ کر کے اپنے ایمان کے کامل ہونے کا ثبوت دیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے جو شخص وصیت نہیں کرتا مجھے اس کے ایمان میں شبہ ہے۔پس وصیت معیار ہے ایمان کے کامل ہونے کا۔مگر دسویں حصہ کی وصیت اقل ترین معیار ہے۔یعنی یہ تھوڑے سے تھوڑا حصہ ہے۔جو وصیت میں دیا جا سکتا ہے۔مگر مومن کو یہ نہیں چاہئے کہ چھوٹے سے چھوٹے درجہ کا مومن بننے کی کوشش کرے بلکہ بڑے سے بڑے درجہ کا مومن بننا چاہئے۔یہ درست ہے کہ رشتہ داروں اور لواحقین کو مد نظر رکھ کر کہا گیا ہے کہ ۱۱۳ حصہ سے زیادہ وصیت میں نہ دے۔لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ دسویں حصہ سے زیادہ وصیت نہ دے۔مگر دیکھا گیا ہے کہ اکثر دوست ۱/۱۰ حصہ کی وصیت کرنے پر کفایت کرتے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید ان کا خیال ہو کہ وصیت کا مفہوم دسویں حصہ کی وصیت کرنا ہی ہے حالانکہ یہ ادنی مقدار بیان کی گئی ہے اور مومن کے لئے یہی بات مناسب ہے کہ جس قدر زیادہ دے سکے دے۔ایمان اور مومن کی شان کو مد نظر رکھتے ہوئے تو یہی ہونا چاہئے۔جو وصیت کرے ۱۱۳ حصہ کی وصیت کرے۔ہاں جو اتنا حصہ مجبورا نہ دے سکے۔وہ اس سے کم دیدے۔پس اصل وصیت ۱/۳ حصہ کا نام ہے ہاں جو یہ نہ دے وہ اس سے کم 10ا حصہ تک دے سکتا ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر ایک شخص اپنی موت کا نظارہ اپنی آنکھوں کے سامنے لائے اور اپنی حالت پر نظر کرے تو اسے معلوم ہو کہ مجھ سے بے شمار غلطیاں اور کمزوریاں سرزد ہو چکی ہیں اب مرنے کے وقت تو مجھے خدا تعالیٰ سے صلح کر لینی