خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 304

304 چیز زمین ہے جس پر ہم چلتے اور پرورش پاتے ہیں۔اس پر اپنی تمام زندگی گزارتے ہیں۔اس سے اگر صحیح کام نہ لیں تو وہ بھی ہمارے لئے مفید نہیں ہو گی۔اس سے ہم فوائد نہیں حاصل کر سکیں گے۔یہی حال دوسری چیزوں کا ہے ایک بے جان ہستی کی قدر نہ کرو تو وہ فائدہ دینا چھوڑ دیگی مثلا زمیندار کو ہی لے لو۔وہ زمین میں ہل چلاتا ہے۔اگر وہ وقت پر اس کی قدر نہ کرے اور وقت پر کھاد نہ ڈالے اور۔پانی نہ دے تو دو چار سال بعد پیداوار کا ملنا بند ہو جائے گا۔وہی زمین جو اعلیٰ سے اعلیٰ فائدہ دیتی ہے وہی چند سال بعد ردی ہو جائے گی۔پھر انسان کے اپنے اعضاء ہیں مثلاً ہاتھ ہی ہے اگر اس کا استعمال چھوڑ دیا جاوے تو وہ تھوڑے عرصہ کے بعد خشک ہو جائے گا۔ہر چیز جس سے فائدہ ہوتا ہے اگر بے جان ہے تو وہ استعمال کے چھوڑ دینے سے ضائع ہو جائے گی اگر وہ جاندار ہے تو فائدہ روک لے گی۔اللہ تعالیٰ کا بھی یہی حال ہے اسی نے یہ عام قاعدہ جاری کیا ہے جس کی اصل میں یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے لئے چاہتا ہے کہ اس کے انعامات کی قدر کی جائے اور اگر قدر نہ کی جائے تو وہ اپنے فیض کو روک لیتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو فرماتا ہے کہ جب میں نے تم پر اتنا بڑا انعام کیا ہے تمہیں کوثر عطا کیا ہے۔تو پہلی بات یہ ہے فصل لریک کہ اپنے رب کا شکریہ ادا کرو۔اس کے انعامات کی قدر کرو ایک معمولی شخص کے معمولی احسان پر جب شکریہ ادا کرنا ضروری ہے تو ہم نے تو تم کو وہ چیز دی ہے جو ہر ضرورت اور ہر زمانہ میں کام دیتی ہے۔تمہارا پہلا فرض اس نعمت سے فائدہ اٹھانے کے لئے یہ ہے کہ تم زبانی اور عملی طور پر دونوں طریق سے اس کا شکریہ ادا کرو۔کیونکہ قدر نہ کرنے سے وہ انعام روک لیا جاتا ہے۔اور بغیر ان دونوں طریق کے شکریہ پورا نہیں ہو سکتک اگر انسان عملی طور اظهار شکریہ کرے تب بھی درست نہ ہو گا۔اگر صرف زبانی طور پر کرے تب بھی شکریہ میں شامل نہ ہو گا۔مثلاً ایک دوست کے تحفہ کا زبانی شکریہ نہ ادا کرے۔اگرچہ اسے لے ہی لے تب بھی تحفہ دینے والے دوست کا دل خوش نہ ہوگا اگر صرف زبانی طور پر شکریہ ادا کرے اور اس کی عملاً قدر نہ کرے تب بھی اس کے دل میں ملال پیدا ہو گا۔تو شکریہ دونوں طریق سے پورا ہوتا ہے۔پھر انسان کی نعمتیں تو بعض وقت بغیر ضرورت کے بھی ہوتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تو تمام وجود سے کامل ہوتی ہیں اور تمام ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم نے تم کو ایسی نعمت دی ہے کہ جس کی کوئی انتہا ہی نہیں تو تمہارا فرض ہے کہ تم اس کی قدر کرو اس کا شکریہ ادا کرو اب وہ شکریہ دو طور سے ہو سکتا ہے۔ایک تو زبان سے کہ اس کے انعامات کا زبان کے