خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 303

303 35 خدائی انعام کی قدر قربانیوں سے ہوتی ہے فرموده ۲۴ دسمبر ۱۹۲۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : قرآن کریم کی سورتیں ایک دریا ہیں جس میں سے قسم قسم کے قیمتی لعل نکلتے ہیں اور ایک سمندر ہیں جس میں سے قسم قسم کے جواہر نکلتے ہیں۔اس کلام کے کئی بطن ہیں اور ہر بطن اپنے اندر کئی معانی رکھتا ہے۔یہ ایسا کلام ہے جس میں انسانی کلام کا ذرہ بھر دخل نہیں۔ایک ہی آیت کئی کئی معنوں پر حاوی ہوتی ہے۔اور صرف ایک ایک لفظ کے علیحدہ علیحدہ معانی نہیں بلکہ ساری کی ساری آئت کئی مطالب پر مشتمل ہوتی ہے۔میں نے سورہ کوثر پر کئی دفعہ خطبہ پڑھا ہے۔اور کئی معانی بیان کر چکا ہوں۔آج میں اس کے ایک اور پہلو پر بیان کروں گا۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے: انا اعطیناک الکوثر یعنی ہم نے تجھے کو بہت بھلائی دی ہے۔اللہ تعالیٰ مومنوں کو فرماتا ہے کہ ہم نے تم کو خیر کثیر دی ہے جس کی کوئی انتہا نہیں تم جس قدر چاہو اس میں سے بھلائی کی باتیں معلوم کر سکتے ہو۔یہ ایسی تعلیم ہے کہ جس کی کوئی یہ نہیں اور جس کی کوئی حد بندی نہیں لیکن اس انعام کے ساتھ یہ بھی یاد رکھو کہ انعام سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے دو باتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اول تو یہ کہ انسان منبع انعام کی قدر کرے اگر اس کی قدر نہ کی جائے تو وہ انعام چھین لیا جاتا ہے۔یہ ایک قانون ہے جو نہ صرف جانداروں میں ہے بلکہ بے جان چیزوں میں بھی جاری ہے۔صرف یہی نہیں کہ ایک عالم استاد کی طالب علم قدر نہ کرے اور اسے عزت سے نہ دیکھے تو طالب علم کو اس سے فائدہ نہیں پہنچے گا۔بلکہ بے جان چیزوں میں بھی یہ قانون نظر آتا ہے۔جب تک ان کی قدر نہ کی جائے اور ان کا صحیح استعمال نہ کیا جائے تب تک وہ فائدہ نہیں دیتیں۔سب سے بے جان