خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 259

259 مہر لگ گئی ہے اور ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے۔وہ سنتے ہوئے نہیں سنتے وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے وہ تغیرات کو محسوس کرتے ہوئے نہیں محسوس کرتے اور یہ غفلت کی رو کسی ایک گوشہ میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر گوشہ میں چلی ہوئی ہے اور صم بکم عمی فهم لا يرجعون (البقره 19) کا سماں نظر آ رہا ہے۔وہ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں کہ جس کی طرف سے وہ غفلت کے ساتھ آنکھیں بند کر رہے ہیں۔ان کے اموال کی تھیلیاں ہر ایک پلید اور گندے کام کے لئے کھل سکتی ہیں لیکن نہیں اگر کھلتیں تو خدا کے دین کے لئے نہیں کھلتیں ان کی آنکھیں دنیا کے سیر و تماشے کے لئے تو کھل سکتی ہیں لیکن نہیں اگر کھلتیں تو دین کی کمزور حالت کے لئے نہیں کھلتیں۔ان کے کانوں پر مہر لگ جاتی ہے کہ وہ اس فریاد کو سنتے ہوئے نہیں سنتے ان کی زبانوں پر مہر لگ جاتی ہے کہ وہ بولتے ہوئے دین کے لئے نہیں بول سکتے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ جاتا ہے کہ وہ دیکھتے ہوئے دین کے کاموں کو نہیں دیکھ سکتے۔سیر تماشوں کے لئے ان کے پاس فرصت ہے۔لیکن دین کے لئے ان کے پاس فرصت نہیں۔ذلیل سے ذلیل اور کمینہ سے کمینہ اشغال میں شوق سے مصروف ہوتے ہیں مگر اسلام کے کاموں کے لئے ان میں کوئی شوق نہیں بلکہ کہتے ہیں کہ یہ ملانوں کے کام ہیں کہ دین کے کاموں میں دخل دیں۔غرض ایک مردار کی طرح سمجھ کر اسلام کو چھوڑ دیا گیا ہے اور دھتکار کر اسے اپنے گھر کے دروازے سے نکال دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث کیا ہے۔آپ لوگ جو یہاں بیٹھے ہیں آپ لوگ جو دنیا کے ہر گوشہ سے آکر یہاں جمع ہو گئے ہیں آپ ہی ایک ایسی جماعت ہیں جس نے اس خطرناک اور نازک وقت میں خدا کی آواز پر لبیک کہا۔آج اگر اسلام کا کوئی سہارا ہے۔آج اگر اسلام کی کوئی مدد ہے آج اگر اسلام کے لئے ٹھرنے کی کوئی جگہ ہے تو اے احمدی جماعت کے لوگو! وہ آپ ہی ہیں جنہوں نے اپنی گردنوں کو اس کے احکام کے جوئے کے نیچے رکھا۔وہ صرف آپ ہی ہیں جنہوں نے دنیا سے منہ پھیر کر اس کی طرف منہ کر لیا وہ صرف آپ ہی ہیں جنہوں نے دنیا کی لذات اور خواہشات سے منہ موڑ کر دل کو اس کی محبت سے بھر لیا۔اور خدا نے آپ کو جو ذلیل سمجھے جاتے تھے۔معزز بنا دیا۔تم دیکھتے ہو کہ شہروں میں اور بڑی بڑی بستیوں میں بڑی بڑی عمارتیں بنی ہوئی ہیں تم دیکھتے ہو کہ ان کے دروازوں پر موٹریں کھڑی ہیں تم دیکھتے ہو کہ سپاہی ان کے دروازوں پر پہرہ دے رہے ہیں تم دیکھتے ہو کہ چوبدار ان کی نوکری بھر رہے ہیں۔تم دیکھتے ہو کہ شان و شوکت کے ساتھ ایک عظیم الشان اور فرعون سے بھی بڑا بنا ہوا انسان ان اسباب کے ساتھ آرام سے زندگی بسر کر رہا ہے لیکن خبردار دھوکہ نہ کھا جانا وہ عزت جو تمہیں اس کی نظر آتی ہے عزت نہیں ہے۔وہ آرام جو تم دیکھتے ہو کہ وہ پا رہا ہے وہ آرام نہیں۔وہ آسائش جو اس