خطبات محمود (جلد 10) — Page 258
258 ہوتے اور یہ تعلیم ہمارے اندر ہوتی یا ایک یہ وقت ہے کہ آج مسلمان کہہ رہے ہیں کہ کاش یہ تعلیم ہم میں نہ ہوتی۔مسلمان رات دن کوشش کر رہے ہیں کہ ثابت کر دیا جائے کہ اسلام کی تعلیم یہ نہیں جو ظاہر کی جاتی ہے یا جو اس کی کتاب میں ہے بلکہ وہ یہ ہے جو ہم بتاتے ہیں۔مسلمان حکومتیں برابر اسی کوشش میں لگی ہوئی ہیں کہ اسلام کے احکام کی متابعت ترک کر دیں۔اور زمانہ کی تبدیلی کے ساتھ مذہب کو بھی بدل ڈالیں۔پس کیا واقعی تاریکی نہیں چھا گئی۔کیا واقعی لوگ دین اور تعلیم کو نہیں بدل رہے۔کیا واقعی خدا کی محبت قرآن کی عزت اور رسول کا ادب ان کے دلوں سے نہیں نکل گیا۔یقیناً نکل گیا ہے۔جب مسلمانوں کا یہ حال ہے تو اس دین کا کیا حال ہو گا جس کے ماننے والوں کی یہ حالت ہے اور جس کے اپنے بھی دشمن ہو گئے۔جس کے لگانوں نے بیگانوں کا طریق اختیار کر لیا۔افسوس کہ اس زمانہ میں اسلام کی یہ حالت ہے کہ گلا گھونٹنے کو خود مسلمان ہی تیار ہیں۔دنیا کے کاموں کے لئے انہیں فرصت مل سکتی ہے لیکن اگر نہیں فرصت ملتی تو اسلام کے لئے نہیں ملتی اور اس کی خدمت کے لئے نہیں ملتی۔حالانکہ کچی بات تو یہ ہے کہ اسلام کے اندر ہر قسم کی خوبیاں ہیں اور اسلام ہی اس لائق ہے کہ اس کی خدمت کی جائے۔اسلام کے اندر ہر قسم کی خوبیاں ہیں۔لیکن مسلمانوں کو ان کا احساس نہیں ہے۔وہ اپنے اندر محسوس ہی نہیں کرتے کہ اسلام ہر قسم کی خوبیوں کا مجموعہ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اس کا درد نہیں۔انہیں اس بات کا یقین اور وثوق نہیں۔اگر انہیں درد ہو تا اگر انہیں اس بات کا یقین اور وثوق ہو تا۔اگر انہیں اس بات پر اعتبار ہوتا کہ اسلام میں ہر قسم کی خوبی موجود ہے تو جیسے صحابہ کی زبانوں میں اثر تھا جیسے صحابہ کی حرکات و سکنات میں اثر تھا جیسے صحابہ کے اشارات میں اثر تھا۔ان کی زبانوں میں بھی اثر ہوتا۔ان کی حرکات و سکنات میں بھی اثر ہوتا۔ان کے اشارات میں بھی اثر ہوتا۔اور لوگ جب ان کی باتوں کو سنتے اور ان کو دیکھتے تو دین کی طرف مائل ہو جاتے۔پھر اگر وہ خود بھی اسی تڑپ کے ساتھ کوشش کرتے۔جس تڑپ کے ساتھ صحابہ کرتے تھے۔تو آج اسلام کی وہ حالت نہ ہوتی۔جو ہو رہی ہے بلکہ اسلام ترقی پر ترقی کرتا چلا جاتا۔اور جس طرح پہلے دنیا کو کھائے چلا جا رہا تھا آج بھی کھائے چلا جاتا۔جس طرح پہلے دنیا کو اپنے اندر جذب کر رہا تھا آج بھی اسی طرح اسے جذب کر رہا ہوتا۔لیکن افسوس ہے کہ آج مسلمانوں میں نہ وہ تڑپ ہے اور نہ وہ جوش۔نہ وہ جنون ہے اور نہ وہ دیوانگی جو اسلام کے لئے صحابہ کو تھی آج اگر تلاش کریں تو اس دیوانگی کا اثر مسلمانوں میں کہیں نہیں ملتا۔دیوانگی کا یہ اثر بھی مسلمانوں میں نہیں اور پھر ان کو اپنے دنیا کے کاموں سے فرصت بھی نہیں کہ وہ دین کی طرف متوجہ ہو سکیں۔وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ان کے دلوں پر اور کانوں