خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 260

260 کے ساتھ وابستہ نظر آ رہی ہے آسائش نہیں ہے بلکہ وہ رسوائی ہے بلکہ وہ تکلیف ہے بلکہ وہ دکھ ہے۔کیونکہ وہ خدا سے غافل ہے دین کے درد سے خالی ہے۔قرآن کی تعلیم سے بے بہرہ ہے۔اسے ان باتوں سے تعلق نہیں لیکن آپ لوگوں کو اللہ تعالٰی نے درد بخشا ہے اور دین کی خدمت کے لئے چن لیا ہے۔پس جو عزت کا مقام آپ کو دیا گیا ہے۔وہ بادشاہوں کو بھی نہیں دیا گیا۔اس وقت اپنی قدر آپ لوگوں کو بھی معلوم نہیں ہے لیکن وقت آ رہا ہے کہ آپ کو اپنی قدر و قیمت معلوم ہو جائے گی۔اور پتہ لگ جائے گا کہ خدا تعالٰی نے ہمیں بہت بڑی عزت کے مقام پر کھڑا کیا ہے اور جنہیں دوسرے لوگ ذلیل سمجھتے تھے۔وہ ذلیل نہ تھے۔بلکہ ذلیل وہ تھے جو خدا کے دین کی خدمت کرنے والوں کو ذلیل سمجھتے تھے۔اس نقشہ کو دیکھو جس میں نبی کریم ا نے ایک سادہ لباس میں خانہ کعبہ میں عبادت کے لئے جاتے ہیں اور پھر اس نقشہ پر بھی نگاہ ڈالوں کہ فوجوں کے جھرمٹ میں آپ وہاں داخل ہوتے ہیں۔پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ آپ تن تنہا رہ گئے اور آپ کو دیکھ کر آپ کے عزیز بھی آپ کے دوست بھی کترا جاتے وہ وقت بھی آیا کہ آپ کو تکلیفیں دی گئیں وہ وقت بھی آیا کہ آپ کی ذلت و رسوائی کے لئے کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔لوگ آپ کو برا بھلا کہتے گالی گلوچ نکالتے۔دست درازی کرتے حالانکہ خود ان کا یہ حال تھا کہ چوری وہ کرتے۔ڈا کے وہ ڈالتے۔مال اٹھا لے جانا ان کے نزدیک معمولی بات ہوتی اور کمزوروں پر ظلم کرنا کوئی عیب ہی نہ شمار کیا جاتا خود تو یہ حال تھا لیکن نبی کریم کو اذیتیں پہنچاتے اور یہ سمجھتے کہ ہم معزز ہیں اور یہ غیر معزز۔یہ صرف اس لئے تھا کہ وہ لوگ تو خدا کو جانتے ہی نہ تھے اور اس کو بھلا بیٹھے تھے۔لیکن آپ اللہ تعالی کو مانتے اور خدا سے نسوب شدہ گھر میں خدا کی عبادت کے واسطے داخل ہوتے۔آپ کی ابتدائی حالت میں کوئی آپ پر میلا ڈالتا۔کوئی دھکا دیتا۔کوئی گلے میں پڑکا ڈالتا۔غرض کوئی تکلیف نہ ہوتی جو پہنچائی نہ جاتی۔اور کوئی سخت سلوک نہ تھا جو آپ کے ساتھ کیا نہ گیا۔کیا اس وقت کی حالت کے دیکھنے سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ آج جس کو ذلیل سمجھا جاتا ہے وہی دنیا میں سب سے زیادہ عزت دار ہو گا۔آج جس کے بدن پر میلا ڈالا جاتا ہے اس کے پینے کی جگہ لہو بہانے کے لئے سینکڑوں انسان تیار ہو جائیں گے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے اس تن تنہا شخص کے قدموں میں دنیا آگرے گی۔کیا کوئی سیاح اس وقت کی آپ کی حالت کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتا تھا کہ آپ دنیا میں بڑھیں گے۔کیا کوئی ہندوستانی سیاح جسے ادھر جانے کا اتفاق ہوتا اور جسے آپ کی اس کمزور حالت کے دیکھنے کا موقعہ ملتا اس بات کو جان سکتا تھا کہ یہ دنیا میں مشہور ہو جائے گا۔اس کی تعلیم دنیا کے ہر گھر میں پھیل جائے گی اور ملکوں کے ملک اس کی اطاعت کے جوئے کے نیچے آجائیں گے ہرگز نہیں اس کے گمان میں بھی یہ بات نہ آسکتی تھی کہ وہ