خطبات محمود (جلد 10) — Page 218
218 منتظر تھے اور اس بات پر بھی آمادہ تھے کہ اگر مسیح ظاہر ہو تو اس کے پاس جائیں۔لیکن جب مسیح کا خلیفہ جس کے پاس مسیح کے بعد انہوں نے خود چل کے آنا تھا۔خود ہی ان کے درمیان جا کھڑا ہو تو وہ کیوں نہ اس کے گرد جمع ہوتے اور کیوں نہ ان میں ایک ہیجان پیدا ہو جاتا۔انہوں نے جب دیکھا۔یہ ایک ایسے شخص کا خلیفہ ہے جو مسیح موعود ہونے کا مدعی ہے تو فورا" ادھر متوجہ ہوئے۔اور یہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روحانی توجہ کا ہی نتیجہ ہے۔اس صورت میں کون عظمند انسان ایسا ہو سکتا ہے جو یہ کہے کہ یہ کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نہیں بلکہ کسی اور کا ہے۔غرض اسلام کی شان و شوکت کے لئے جو کام ہماری جماعت میں ہوتا ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہی طرف منسوب ہو گا۔آنحضرت نے فرمایا ہے لو كان الايمان معلقا بالثريا لنا له رجل من ابناء فارس ۲ مگر ایک دوسری روایت "رجال" کا لفظ بھی آیا ہے۔یعنی ایک جگہ "رجل" کا لفظ استعمال کیا۔اور دوسری جگہ "رجال" کا۔اس میں یہی راز ہے کہ در حقیقت کام تو ایک ہی ”رجل فارس" کا ہو گا لیکن ہتھیار کے طور پر اور رجال بھی اس کے ساتھ لگا دیئے جائیں گے اور جو اور رجال اس کے ساتھ لگائے جائیں گے وہ اس کا کام کریں گے۔کیونکہ اصل کام اس ایک کا ہی ہوگا۔اس میں اشارہ" یہ بات بتائی گئی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کام میں ان کے خاندان کے اور افراد بھی بطور مدد گار لگائے جائیں گے۔پس میں جہاں تک سمجھتا ہوں میرے نزدیک خطیب کا یہی مطلب ہو گا۔کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس کی زندگی میں ہی اس کی پیشگوئیاں پوری ہو گئی ہوں۔بلکہ مبالغہ نہ ہو گا اگر میں یہ کہوں کہ چوتھا حصہ بھی ان پیشگوئیوں کا پورا نہیں ہو تا بلکہ اکثر بعد میں پوری ہوتی ہیں۔جس سے غرض یہ ہوتی ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک دنیا ان نشانات کو دیکھ کر ان کی طرف متوجہ ہوتی رہے۔مثلا" جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ کہا گیا کہ میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا تو کیا یہ کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ہی ہو گیا۔اور تبلیغ دنیا کے کناروں تک پہنچ گئی۔تبلیغ تو شائد اس وقت تک بھی دنیا کے کناروں تک نہ پہنچی ہو۔لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک تبلیغ دور دور مقامات پر پہنچ گئی اور بعض ایسے مقامات پر پہنچ گئی کہ واقعی ان کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہ دنیا کا کنارہ ہیں۔لیکن ابھی وہ وقت آنے والا ہے جب کوئی کنارہ دنیا کا ایسا نہ ہو گا جس میں تبلیغ نہ پہنچی