خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 219

219 ہوگی۔اور یہ کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد ہی ہوا اور بعد ہی ہو رہا ہے۔اور پھر اس میں ایک آدمی ہی نہیں بہت سے آدمی کام کر رہے ہیں۔اس پیشگوئی کے پورا کرنے میں لاکھوں آدمی شامل ہیں۔اور ان لاکھوں کی کوشش سے یہ پوری ہو رہی ہے۔لیکن دمشق کے متعلق جو ہوا۔وہ اکیلے آدمی کے ذریعہ ہوا۔اور مجھے اس پر فخر ہے کہ وہ اکیلا آدمی میں ہی ہوں کہ میرے ذریعے خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی کو پورا کرایا۔اس وقت اس خیال کو دور کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں جو اس کے متعلق ظاہر کیا گیا ہے۔اس لئے میں اسے طول نہیں دینا چاہتا۔صرف یہی پیشگوئی نہیں جو مجھ سے پوری ہوئی ہے بلکہ اور بھی ہیں۔لیکن اس سے یہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود کی ادنی سی مسیحیت بھی میری طرف منتقل ہو گئی۔پس یہ ایک غلط فہمی ہے اور جیسا کہ میں نے شروع میں بھی اس کے متعلق کہا کہ یہ ایک غلط فہمی ہے۔میں غلط فہمی اسے اس لئے کہتا ہوں۔کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خطیب کا ہرگز یہ منشاء نہیں ہو گا۔جو شکایت کے رنگ میں میرے سامنے بیان کیا گیا۔بلکہ اس کی منشاء کے خلاف کچھ غلط فہمی ہو گئی ہے جسے دور کر دنیا چاہئے۔اس کے بعد اور مضمون ہے جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں اور جماعت کے لوگوں کو اس کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔روحانیت پر جہاں ہماری جماعت زور دیتی ہے۔وہاں بعض غلط فہمیاں بھی پیدا ہو گئی ہیں۔اور وہ غلط فہمیاں روحانیت کے مفہوم کے متعلق ہیں۔روحانیت کا وہ مفہوم نہیں ہے جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ انسان کے اندر ایسی باریک طاقتیں پیدا ہو جاتی ہیں جن سے وہ خدا تعالیٰ کے قریب ہو جاتا ہے اور ہر لحظہ اور بھی قریب ہو تا رہتا ہے۔یعنی اس کے قرب پانے میں بہت کم واسطے ہوتے ہیں۔وہ مادیت کو چھوڑتا جاتا ہے اور جیسے جیسے کوئی مادیت کو چھوڑتا جاتا ہے۔ویسے ویسے اس کے واسطے" جو خدا تعالٰی اور اس کے درمیان ہوتے ہیں کم ہوتے جاتے ہیں۔کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ جتنی کوئی شئے مادی ہوتی ہے اس کے اور خدا کے درمیان واسطے" زیادہ ہوتے ہیں۔اور جتنی کوئی شے لطیف ہوتی ہے واسطے کم ہوتے چلے جاتے ہیں۔گویا جو شئے لطیف بنتی جاتی ہے۔خدا کے قریب ہوتی جاتی ہے۔اور جو خدا کے قریب ہوتی جاتی ہے وہ مادی واسطوں کو توڑتی جاتی ہے۔لیکن جتنا کوئی مادیات میں ملوث ہو گا۔اس کے درمیان واسطے بھی زیادہ ہوں گے۔مثلا ایک شخص جو نہایت ہی مادی ہے اس کے لئے خدا تعالیٰ کے احکام بہت زیادہ واسطوں سے نازل ہوتے ہیں۔ایک انسان ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی کے گھر ماتم دیکھتا ہے تو سمجھ لیتا ہے ee 33