خطبات محمود (جلد 10) — Page 205
205 آبھی جائے تو اس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔دعا وہی قبول ہوتی ہے جو عجز و انکسار سے کی جاتی ہے۔اور چونکہ مسلمانوں میں بجز و انکسار نہیں ہوتا اس لئے وہ دنیا میں کوئی کام نہیں کر سکتے۔سکھ اور عیسائی ہندوؤں سے تعلقات رکھتے ہیں کیونکہ ان کے کاموں میں بجز و انکسار ہوتا ہے۔ان کی کامیابی کی ایک وجہ عجز و انکسار بھی ہے۔ایک ہندو ہمیشہ عاجزی اور انکساری سے کام لیتا ہے لیکن ایک مسلمان ہمیشہ خود پسندی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔لوگوں کے ساتھ کم عجز و انکسار سے پیش آتا ہے۔یہی رنگ اس کی دعاؤں میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔بندے تو بندے وہ خدا کے حضور بھی عاجزی نہیں کرتا اور یہی وجہ ہے کہ وہ ہر میدان میں اور ہر کام میں ناکام ہو رہا ہے۔۔مسلمان جن کا شعار تھا دعا کرنا اور نہایت عجز و انکسار کے ساتھ دعا کرنا وہ اول تو دعائیں کرتے نہیں اور اگر کرتے ہیں تو اس رنگ اور اس انداز میں کہ وہ دعائیں دعائیں کہلا نہیں سکتیں۔اور بجائے اس کے کہ وہ قبول ہوں۔وہ ان کے منہ پر ماری جاتی ہیں لیکن غیر مذاہب والے جو مذہب کے لحاظ سے مردہ کہلانے کے مستحق ہیں۔وہ دعائیں کرتے ہیں اور بڑی عاجزی و انکساری سے کرتے ہیں۔عیسائیوں کو دیکھ لو ان میں بادشاہ اور امراء تک بھی دعائیں کرتے ہیں اور بڑے عجز و انکسار سے کرتے ہیں۔گر جا کے دن غریب بھی گرجا میں جاتے ہیں اور امیر بھی حتی کہ بادشاہ بھی لیکن مسلمانوں کی مسجدوں کا یہ حال ہے کہ ان میں اول تو امراء آتے ہی نہیں اور جو آتے ہیں تو شاز و نادر۔اور وہ بھی عید کے دن یا پھر کبھی کبھی جمعہ کے روز۔غرض عیسائیوں کا ہر خور دو کلاں دعائیں کرتا ہے اور عجز و انکسار کے ساتھ کرتا ہے۔یہی حال ہندوؤں کا ہے۔ہندوؤں میں بھی عجز و انکسار بہت زیادہ ہے اور اس عجز و انکسار کا رنگ دعاؤں میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔مہاراجہ دربھنگہ کے متعلق بتایا گیا کہ جب دہلی میں بادشاہ کی رسم تاج پوشی کے متعلق جلسہ ہوا تو جہاں اور لوگ سیرو تفریح کے کاموں میں اپنے اوقات گزارتے تھے وہاں مہاراجہ دربھنگہ با قاعدہ عبادت کرتے۔ایسے موقعہ پر عبادت میں کمی واقع ہو جاتی ہے مگر انہوں نے ایسا انتظام کیا ہوا تھا کہ ہرگز کمی اور نقص نہ واقع ہو تا تھا۔انہوں نے اپنے کیمپ میں عبادت کا سامان کیا ہوا تھا۔ایک دن وہ عبادت کر رہے تھے اور ان کے پیچھے انگیٹھی جل رہی تھی۔چونکہ وہ نہایت مشغولیت سے عبادت کر رہے تھے۔اس لئے انہیں اس بات کا خیال نہ رہا کہ پیچھے انگیٹھی جل رہی ہے۔اور اس محویت میں ان کی پیٹھ جل گئی۔یہ واقعہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا۔میر صاحب ان دنوں دہلی میں تھے اور مہاراجہ کے علاج کے لئے انہیں بلایا گیا تھا۔