خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 206

206 عیسائیوں کا بھی یہی حال ہے کہ وہ ہر موقعہ پر دعائیں کرتے ہیں۔چنانچہ جنگ میں بھی دعائیں کرتے رہے ہیں اور کثرت سے دعائیں کرتے رہے ہیں۔کوئی مرد۔کوئی عورت اور کوئی بچہ ایسا نہ تھا کہ دعا نہ کرتا ہو۔غریب امیر سب دعائیں کرتے تھے۔یہاں تک کہ بڑے بڑے امراء اور روساء بھی دعائیں کرتے تھے۔وزیر اعظم تک دعاؤں پر زور دیتے تھے اور گرجوں میں اگر جگہ نہ ہوتی تو لوگ گھروں میں دعائیں کرتے تھے اور دعا کرنے والوں کی کثرت سے ان کا گھر گھر گر جا بنا ہوا تھا۔ان دعاؤں میں وہ عجز و انکسار سے کام لیتے تھے اور پھر انہیں یہ یقین بھی ہوتا تھا کہ خدا تعالیٰ سب کچھ کر سکتا۔ہے۔یہ ایمان اور امید بھی ہوتی تھی کہ خدا ہمارے لئے سب کچھ کرے گا۔لیکن مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ جہاں ان میں کوئی تعلیم یافتہ ہوا فورا" عجز چھوڑ دیا اور کبر و غرور اس میں آگیا اور یہ دعوی کرنا شروع کر دیا کہ ہم اپنی قوت اور زور بازو سے سب کچھ کر سکتے ہیں مگر ان کا یہ دعوی بھی غلط ہو جاتا اور اپنی قوت اور زور بازو سے بھی کچھ نہ کر سکتے۔۔ابھی چند دن ہوئے ہیں جب لاہور میں مجھ سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کی تباہی کا موجب کیا ہے تو میں نے یہی جواب دیا تھا کہ اس تباہی کا موجب آپ لوگوں کی اپنی بزدلی ہے آپ لوگوں نے خلافت کے شور کے دنوں میں بزدلی سے مولویوں کو اس لئے اپنے ساتھ ملایا کہ ہم شائد عام لوگوں تک نہ پہنچ سکیں۔اس وجہ سے آپ لوگوں نے کہا چلو مولویوں کو ساتھ ملائیں۔مگر یہ ایک غلطی تھی۔کیونکہ سیاسی کاموں میں جب مولویوں کا دخل ہو گیا تو انہوں نے اپنی چلانی شروع کر دی۔اسی طرح یہ بھی ایک غلطی تھی کہ تم نے ایک سیاسی مسئلے کو زبر دستی مذہبی مسئلہ بنا دیا اور پھر اسے بھی کم ہمتی سے نبھا نہ سکے۔چونکہ مسلمانوں میں استقلال نہیں اس لئے اب بھی وہ جن کاموں کو کرنا چاہتے ہیں کچھ دیر کر کے پھر ڈھیلے ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔دعاؤں میں بھی ان کا یہی حال ہے۔کچھ دن دعا کریں گے اور پھر اسے چھوڑ کر بیٹھ جائیں گے۔حالانکہ وہ اس بات سے واقف نہیں ہوتے کہ اگر وہ ایک بار اور دعا کرتے تو شاید وہ کام ہو جاتا جس کے لئے دعائیں کر رہے تھے اور جسے استقلال کے نہ ہونے سے انہوں نے چھوڑ دیا۔ان کو کیا معلوم ہے کہ کسی کام کے لئے کس قدر دعا کی ضرورت ہے۔اس کا علم تو صحیح طور پر خدا تعالیٰ ہی کو ہے۔ہاں ان کا یہ کام ہے کہ وہ دعا کرتے چلے جائیں اور اس وقت تک نہ چھوڑیں۔جب تک کہ وہ بات ہو نہ جائے مگر یہ بات استقلال سے حاصل ہو سکتی ہے۔اور استقلال مسلمانوں میں ہے نہیں۔پھر عام تدابیر تھیں۔ان میں بھی مسلمان ہندوؤں اور تمام دوسری قوموں سے پیچھے ہیں۔