خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 69

69 8 انسانی خصائل ثلاثہ کا بر محل استعمال (فرموده ۲۶ فروری ۱۹۲۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر تین خصلتیں پیدا کی ہیں اور یہ تینوں خصلتیں ہر انسان کے اندر تھوڑی بہت ہوتی ہیں۔کسی میں یہ خصلتیں بہت زیادہ طور پر ظاہر ہوتی ہیں اور کسی میں کم۔مگر کچھ نہ کچھ حصہ ان کا ہر شخص میں پایا جاتا ہے گو یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی وقت کوئی خصلت ظاہر ہوتی ہے۔اور کسی وقت کوئی۔بعض وقت تینوں ظاہر ہوتی ہیں۔بہر حال تمام انسانوں میں یہ تینوں خصلتیں پائی جاتی ہیں۔ان میں سے پہلی خصلت جو رحمانیت کے ماتحت ہے۔وہ انانیت کی خصلت ہے۔انسانوں کے اندر یہ مادہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے وجود کو علیحدہ اور ممتاز دیکھنا چاہتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ اپنی شخصیت کو قائم رکھیں اور یہ مادہ رحمانیت کے ظہور کے ساتھ ان میں پیدا ہوتا ہے۔دیکھ لو امراء اور رؤسا کے بچے جن کا ادب و احترام کیا جاتا ہے اور بعض حالتوں میں بغیر وجہ اور بلا سبب کیا جاتا ہے۔بغیر اس کے کہ ان میں کوئی خوبی پائی جائے۔بغیر اس کے کہ ان میں کوئی عمدہ بات ہو۔بغیر اس کے کہ ان میں کوئی اچھی بات ہو ان کا ادب و احترام کیا جاتا ہے وہ جب بڑے ہوتے ہیں تو اس وقت بھی بلا وجہ یہ کہتے ہیں۔ہم ایسے ہیں ویسے ہیں لوگوں کو چاہئے کہ ہمارا ادب و احترام کریں۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اس بات کے عادی ہو گئے ہوتے ہیں کہ لوگ ان کا ادب و احترام کریں۔چونکہ بچپن میں بلا وجہ ان کا ادب و احترام کیا جاتا ہے۔اس لئے بڑے ہو کر بھی بلا وجہ ہی چاہتے ہیں کہ لوگ ان کا ادب و احترام کریں۔اس میں وہ یہ نہیں دیکھتے کہ کیوں لوگ ہمارا ادب و احترام کریں۔آیا ہمارا کوئی احسان ان پر