خطبات محمود (جلد 10) — Page 224
224 پھیلانے والے انبیاء اور ان کی جماعتیں ہوتی ہیں اور وہی سب سے زیادہ فرمانبردار ہوتی ہیں۔اگر فرماں برداری غلامی ہوتی تو نہ انبیاء فرماں بردار ہوتے اور نہ ان کی جماعتیں۔پس یہ غلط خیال ہے کہ فرمانبرداری غلامی ہے۔یورپ کی جتنی قومیں ہیں سب فرمانبرداری کرتی ہیں لیکن وہی اس وقت سب سے زیادہ آزاد سمجھی جاتی ہیں۔پھر بعض نادان ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمارے اندر سیاست تو ہے نہیں پھر ہم کیوں کسی کی مانیں۔لیکن یہ بھی غلط بات ہے ہمارے اندر سیاست ہے جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس حکومت نہیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم ان امور میں جن کو گورنمنٹ نے اپنے لئے مخصوص کر لیا ہے کچھ نہیں کر سکتے اور ان کے لئے اس کے پاس جانے کے لئے مجبور ہیں لیکن اس کے علاوہ جو اور امور ہیں وہ ہماری سیاست ہے۔پس جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم میں سیاست نہیں وہ نادان ہیں وہ سیاست کو سمجھتے ہی نہیں۔سیاست کے یہی معنے ہیں کہ کسی کو کس اصول پر چلایا جائے۔اور وہ تمام امور جن میں دنیا دی گورنمنٹ دخل نہیں رکھتی خلیفہ کے ہاتھ میں ہیں اور خلیفہ جماعت کو ان پر چلاتا ہے یعنی ان تمام امور کو منتقلی کر کے جن کو گورنمنٹ اپنے لئے مخصوص کر لیتی ہے۔باقی ساری خلیفہ کی سیاست ہوتی ہے۔مثلا" گورنمنٹ کہتی ہے چوری نہ کرو لیکن اگر کوئی کرے تو کہتی ہے اسے ہمارے پاس لاؤ۔اس سے وہ اپنے قانون کے مطابق سلوک کرتی ہے اور لوگ مجبور ہیں کہ اس قسم کے معاملات میں اس کے پاس جائیں۔لیکن وہ امور جن میں گورنمنٹ نے آزادی دی ہے کہ اپنے طور پر طے کر لو۔وہ خلیفہ کی سیاست کے ماتحت ہیں۔جو شخص یہ نہیں مانتا کہ خلیفہ کی بھی سیاست ہے۔وہ خلیفہ کی بیعت ہی کیا کرتا ہے۔اس کی کوئی بیعت نہیں۔اور اصل بات تو یہ ہے کہ ہماری سیاست گورنمنٹ کی سیاست سے زیادہ ہے۔خلیفہ کے لئے سیاست وہی عقیدہ ہے جس کے لئے گیارہ سال سے میں غیر مبایعین سے جھگڑ رہا ہوں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سیاست نہیں اور جب سیاست نہیں تو خلیفہ بھی نہیں کیونکہ خلیفہ بغیر سیاست کے نہیں ہو سکتا۔مگر میں کہتا ہوں کہ ہم میں سیاست ہے۔در اصل سیاست دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک سیاست تلوار والی اور دوسری محبت والی۔خلیفہ کے پاس محبت والی سیاست ہوتی ہے۔وہ حکم دیتا ہے۔مانو۔پس مان لیا جاتا ہے۔لیکن گورنمنٹ کہتی ہے مانو نہیں تو سر اڑا دیا جائے گا۔ان دونوں سیاستوں میں کتنا عظیم الشان فرق ہے۔خلیفہ کو صرف زبان سے کہنا پڑتا ہے اور لوگ مان لیتے ہیں مگر گورنمنٹ کو تلوار کی دھمکی دینی پڑتی ہے اور لوگ پھر بھی