خطبات محمود (جلد 10) — Page 225
225 مضمون انکار کر جاتے ہیں۔تو خلیفہ کی سیاست گورنمنٹ کی سیاست سے بھی زیادہ ہے۔چنانچہ گورنمنٹ بھی یہ مانتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس نے الیکشن کے قانون میں یہ رکھا ہے کہ وہ شخص جو روحانی پیشوا ہو اور جس کے حکم کے متعلق اس کے ماتحت سمجھتے ہوں کہ اگر نہ مانیں گے تو دین و دنیا میں نقصان ہو گا اور جہنم میں جائیں گے وہ الیکشن کے موقعہ پر اپنے مریدوں کو حکم نہ دے کہ فلاں کو ووٹ دو یا نہ دو ہاں مشورہ دے سکتا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح اول اب تو بار بار فرمایا کرتے تھے بلکہ اکثر آپ اس کے متعلق ڈانٹا بھی کرتے تھے۔میں نے ڈانٹنا تو الگ رہا کبھی اس بات کو دہرایا تک نہیں مگر میرے ایسا کرنے کے یہ معنے نہیں کہ یہ مضمون ہی باطل ہو گیا۔مضمون بالکل ویسا ہی ہے اور درست ہے۔لیکن یہ میرا طریق نہیں کہ اس قسم کی باتوں کو جو میرے متعلق ہوں بیان کروں۔جہاں تک کسی معاملے کا میری زات سے تعلق ہوتا ہے۔میں اس سے اجتناب کرتا ہوں۔چنانچہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میری خلافت کے زمانہ میں جو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ سے دگنا ہے۔یہ اتنا نہیں دہرایا گیا جتنا حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں۔اور اگر غور کیا جائے تو حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں یہ مضمون دس گنا زیادہ نکل آئے گا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ میں نے اس کے بیان کرنے سے اجتناب کیا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بیان کرنے کی طاقت دی ہے اور اس نے یہ طاقت بھی بخشی ہے کہ میں اس سے اپنے دشمن پر غالب بھی آ جاتا ہوں۔مگر پھر جو میں نے اس امر کو بیان نہیں کیا تو اس کا یہی مطلب ہے کہ میں ان امور کے بیان کرنے سے اجتناب کرتا ہوں جن کا تعلق میری ذات سے متعلق ہوتا ہے۔پس اس سیاست کے مسئلے کو اگر میں نے بار بار بیان نہیں کیا تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ میں نے اس سے جان بوجھ کر اجتناب کیا۔آپ لوگوں کو یہ بات خوب سمجھ لینی چاہئے کہ خلافت کے ساتھ ساتھ سیاست بھی ہے اور جو شخص یہ نہیں مانتا وہ جھوٹی بیعت کرتا ہے۔جو سمجھنے والے ہیں وہ تو سمجھ لیں گے لیکن جو نہیں سمجھتے میں ان سے کہتا ہوں کہ کان کھول کر سن لیں کہ ان تمام امور میں کہ جن میں گورنمنٹ اپنے پاس آنے کے لئے مجبور نہیں کرتی سب پر خلیفہ کا حکم ہے۔اور جو یہ بات سمجھ کر بیعت نہیں کرتا۔وہ در حقیقت بیعت بھی نہیں کرتا۔پھر جس طرح خلیفہ کا حکم ضروری ہے اسی طرح خلیفہ جو نائب مقرر کرتا ہے اس کا حکم مانا بھی ضروری ہے۔کیونکہ قانون کی پابندی ہر حال میں ضروری ہے۔وہ شخص انسان پرست ہے خدا پرست نہیں جو میری ہی مانتا ہے اور میرے مقرر کردہ دوسروں کی نہیں مانتا ایسا انسان دراصل خدا کا رضيت