خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 174

174 غلطی کیا ہوئی۔تو ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں۔حالانکہ یہ واضح بات ہے کہ خدا کے لئے روپیہ جمع کیا جاتا ہے۔اور سب خدا کے بندے ہیں مگر جب اپنی ذات کے متعلق فیصلہ کرنا ہو تو غلطی کر جاتے ہیں۔اس کے لئے فیصلہ کرنے والے اور ہونے چاہئیں۔تو بسا اوقات انسان سمجھتا ہے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں دیانت داری کے ماتحت ہے مگر وہ بے وقوفی اور نادانی ہوتی ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ جنہوں نے کسی نہ کسی طرح مقبرہ بہشتی میں داخل ہونے کی کوشش کی وہ دھوکہ باز تھے۔بہت سے ان میں ایسے تھے جنہوں نے صرف یہ خیال کیا کہ جنت میں داخل ہونے کے لئے مقبرہ بہشتی میں دفن ہو جانا کافی ہے پھر کیوں نہ ہم دنیا میں بھی مال سے فائدہ اٹھائیں۔بلکہ میں تو کہوں گا ایک رنگ میں ان کا ایمان بڑھا ہوا تھا کہ انہوں نے سمجھا اگر ہم دھوکہ کر کے بھی مقبرہ میں داخل ہو جائیں گے تو بھی خدا تعالیٰ ہمیں اس میں داخل ہونے کی وجہ سے جنتی قرار دے دیگا۔بے شک ایسے لوگ غلطی پر تھے۔اور ان کا خیال درست نہ تھا۔انہوں نے وصیت کا غلط مفہوم لیا اور دھوکہ میں پڑ گئے مگر وصیت سے سب سے بڑا فتنہ ایک اور پیدا ہوا جو خیال میں بھی نہیں آسکتا۔اور وہ خلافت کے متعلق فتنہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خیال بھی نہ ہو گا جب آپ نے وصیت لکھی کہ ایسی جماعت بھی پیدا ہو گی جو اس کے ماتحت کے گی کہ خلیفہ نہیں ہونا چاہئے۔مگر اس طرح بھی وصیت ٹھوکر کا باعث ہوئی۔اور ایسا فتنہ پیدا ہوا جس نے جماعت کو تہ و بالا کر دیا۔اور ایک وقت تو ایسا آیا کہ سوائے معدودے چند لوگوں کے سب اس طرف ہو گئے کہ خلیفہ کو منتخب کرنا غلط تھا۔مگر حضرت خلفیہ اول کی تقریر نے بتا دیا کہ یہ خیال غلط تھا اور خلیفہ کا انتخاب بالکل درست تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد جماعت پر روحانیت اور برکات کے نزول کا خاص وقت تھا۔اور یہ ممکن ہی نہیں کہ نبی کے فوت ہونے کے معا بعد جماعت گمراہی اور ضلالت پر جمع ہو۔کیا یہ ممکن ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے نبی کو اٹھالیا اور جماعت سب سے زیادہ رحم کی مستحق ہو گئی۔اس وقت خدا تعالیٰ جماعت کو گمراہ ہونے دے۔پس در حقیقت سچا فیصلہ وہی تھا جو جماعت نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد خلیفہ کے انتخاب کے متعلق کیا۔لیکن پھر بھی کچھ ایسے لوگ تھے۔اور اب تو ان میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔جن کا خیال ہے کہ خلیفہ نہیں ہونا چاہئے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت کے دو ٹکڑے ہو گئے۔اور ایک ٹکڑہ پراگندہ ہو کر جماعت سے باہر چلا گیا پراگندہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ اس میں کوئی اتحاد نہیں مگر ان میں ایسے لوگ شامل ہیں جو کسی وقت جماعت میں اہمیت رکھتے تھے۔تو ان کے لئے وصیت ٹھوکر کا موجب ہوئی اور یضل بہ کثیرا " ان کے متعلق بھی الله