خطبات محمود (جلد 10) — Page 173
173 جن سے معلوم ہوا کہ یہ بھدی بہ کثیرا" بھی ضرور ہو گا۔دوسری ٹھوکر کمزور ماننے والوں کو لگی انہوں نے وہی خیال کر لیا جو رسول کریم لالا لینے کے اقوال سے کمزور ایمان والے مسلمانوں نے سمجھ لیا تھا کہ جو بقیع میں داخل ہو جائے وہ جنتی ہو گا۔اسی طرح انہوں نے خیال کر لیا کہ جو بہشتی مقبرہ میں داخل ہو جائے خواہ کسی طرح داخل ہو جتنی ہو گا۔یہ خیال کر کے انہوں نے دھوکہ سے اس میں داخل ہونا چاہا۔مثلاً اس طرح کہ کہہ دیا ہمارے مرنے کے بعد اتنی جائداد لے لینا۔حالانکہ اتنی جائداد ہی نہ تھی۔اس طرح انہوں نے گویا رجسٹر مقبرہ بہشتی میں اپنا نام لکھا جانا کافی سمجھا جنتی بننے کے لئے اگر یہی بات ہو کہ جس طرح بھی کوئی اس زمین میں دفن ہو جائے وہ جنتی بن جائے۔تو ہمیں سارا روپیہ اس پر خرچ کرنا پڑے کہ مقبرہ کے ارد گرد پہرہ دار مقرر کئے جائیں۔جو بندوقیں لے کر کھڑے رہیں تاکہ اس میں کوئی زبردستی دفن نہ کر جائے۔ادھر جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف داخل ہو جانے سے ہی جنت مل سکتی ہے وہ رات کو لاش لا کر دفن کر جائیں۔اس طرح مقبرہ تمسخر اور کھیل بن جاتا ہے۔" پس بعض نے اس طرح ٹھوکر کھائی کہ خیال کر لیا اس زمین میں دفن ہونے سے انسان جنتی بن جاتا ہے۔اور اس کے لئے لگے دھو کے کرنے اور بعض نے اس کی غرض اور منشاء کو نہ سمجھ کر دھوکہ کھایا۔کوئی کہے ادھر جنتی بنے کی خواہش اور ادھر دھوکہ کرنا یہ دونوں متضاد باتیں کس طرح پائی جا سکتی ہیں۔مگر یاد رکھنا چاہئے جو لوگ ایمان کو ٹونے ٹوٹکے کے طور پر سمجھتے ہیں اور جن کے عقیدہ کی بنیاد عقل پر نہیں ہوتی وہ اس قسم کی متضاد باتیں جمع کر لیتے ہیں۔ہم اس کا نام ظاہر پر محمول کر کے دھو کہ رکھتے ہیں۔مگر ایسے لوگ حقیقت میں سمجھتے ہیں کہ ایسا ہی ہو سکتا ہے اس لئے وہ اپنے نزدیک دھوکہ نہیں کر رہے ہوتے۔عام مسلمانوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے اور حضرت خلیفہ اول ان سناتے تھے کہ بعض لوگ قرآن کریم کی چوری چوری نہیں سمجھتے۔اور ان کا خیال ہے۔خدا کا کلام چرا لینا گناہ نہیں۔ایک دفعہ ایک دوست کے سپرد کچھ روپے تھے اس نے ذاتی مصارف میں اس خیال سے صرف کر لئے کہ جب میرے پاس ہوں گے دیدونگا۔میرا اس شخص سے بہت تعلق تھا۔مگر انجمن میں میں نے ہی یہ سوال اٹھایا کہ اس طرح ان کو خرچ نہیں کرنا چاہئے تھا۔اس دوست نے بھی افرار کر لیا کہ غلطی ہو گئی ہے میں جلد روپیہ ادا کر دوں گا۔مگر ایک اور دوست کھڑے ہو گئے جنہوں نے یہ بحث شروع کر دی کہ یہ غلطی ہے ہی نہیں کیونکہ روپیہ خدا کے لئے جمع کیا جاتا ہے۔اور یہ بھی خدا کی مخلوق ہیں ان کو ضرورت تھی انہوں نے خرچ کر لیا تو حرج کیا ہو گیا اور اس میں