خطبات محمود (جلد 10) — Page 175
175 ظاہر ہوا ہے میں سمجھتا ہوں وصیت کے مسائل ابھی ایسے پیچیدہ ہیں کہ آئندہ بھی ٹھوکر کا موجب ہو سکتے ہیں۔مگر میں ” سرود مستاں یاد دہانیدن " کے مطابق ان کا ذکر نہیں کرنا چاہتا۔اس وقت میں صرف ایک مسئلہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں اور وہ وہ مسئلہ ہے جس کا اس سال کی مجلس مشاورت میں بھی ذکر ہوا تھا کہ کس قدر آمد پر کوئی شخص وصیت کرے۔اور آمد اور جائداد پر وصیت ہو یا نہ ہو میں نے جہاں تک وصیت کو پڑھا ہے کبھی ایک منٹ کے لئے بھی مجھے یہ خیال نہیں آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اس سے منشاء یہ تھا کہ جو اس زمین میں دفن ہو جائے وہ جنتی ہو گا۔یہ بات ایسی ہے کہ خدا تعالیٰ تو الگ رہا حضرت مسیح موعود کی طرف بھی منسوب نہیں کی جاسکتی اور یہ وہ تعلیم ہے کہ شروع سے لے کر اخیر تک جس کا قرآن انکار کر رہا ہے۔میں تو یہ سمجھ نہیں سکتا کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق رکھنے سے تو جنتی نہ ہو سکے۔لیکن اس زمین میں دفن ہونے سے جنتی ہو جائے۔اس طرح تو نعوذ باللہ اس زمین کا خدا تعالیٰ سے بھی بڑا درجہ ہوا کہ اس زمین سے تعلق رکھنے والا جنتی بن سکتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ اور حضرت مسیح موعود سے تعلق رکھ کر کوئی شخص جنتی نہیں بن سکتا تو پھر اس زمین میں کونسی طاقت ہو سکتی ہے کہ جو اس زمین میں دفن ہو جائے۔وہ سیدھا جنت میں چلا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ منشاء ہرگز نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ بات قرآن کریم کی تعلیم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم اور خود وصیت کی تعلیم کے خلاف ہے۔جو منشاء وصیت کا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک ادنیٰ قربانی پیش کی ہے۔جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ جو شخص اس قدر قربانی کرتا ہے۔اس کے نفس میں اصلاح ہے اور جو اتنی قربانی کر دے اس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ جنتی ہے پس اگر وصیت سے اس قسم کی قربانی مراد ہے تو وصیت کو اس کے ماتحت لانا ہو گا۔اور جس بات میں قربانی نہ پائی جاتی ہو گی۔وہ وصیت کے خلاف ہو گی۔میں اس وقت تفصیلات کے متعلق بولنے کے لئے کھڑا نہیں ہوا۔جس بات کے بتانے کے لئے کھڑا ہوا ہوں وہ یہ ہے کہ کسی دوست نے بتایا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے چونکہ آج کل روپیہ کی سخت ضرورت ہے اس لئے وصیت کے نئے معنے کئے جاتے ہیں۔جن سے غرض یہ ہے کہ زیادہ روپیہ وصول ہو جائے۔گو یہ نہایت نامعقول اعتراض ہے مگر میں اس پر برا نہیں مناتا کیونکہ میں کسی سے اپنے لئے روپیہ نہیں مانگتا بلکہ خدا کے دین کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے۔اور اس کے لئے میں روپیہ مانگتا ہوں اگر اس روپیہ سے خلیفہ کی ذاتی جائداد بنتی اور اس کے رشتہ داروں کو ورثہ میں ملتی تو اعتراض ہو سکتا تھا کہ میں اپنے لئے روپیہ