خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 148

148 کو نصیحت کروں گا کہ اسلام کا حکم زیادہ تر عفو سے کام لینے کا ہے۔خدا تعالیٰ رسول کریم اے کے متعلق فرماتا ہے کہ آپ میں عفو بخشش۔نرمی اور رافت تھی اور ہمیں فرماتا ہے۔تمہارے لئے رسول اسوہ حسنہ ہیں۔نمونہ ہیں۔پس جو ہمارے لئے نمونہ ہے وہ جب عفو اور بخشش سے کام لیتا تھا تو ہمارا بھی فرض ہے کہ جب کسی بھائی سے قصور ہو جائے تو اسے سزا دینے کے درپے نہ ہوں بلکہ جہاں تک ہو سکے۔عفو اور درگزر سے کام لیں۔مگر عفو اور درگذر کا وہی مطلب ہے۔جو اوپر بیان ہوا ہے۔یہ نہیں کہ ڈر کے مارے سامنے تو کچھ نہ کہا۔اور دل میں اس پھوڑے کو پکاتے رہے۔جو بھی بزدل ہو گا وہ یہی کرے گا کہ دل سے بات نہ نکالے گا اور موقع تاڑتا رہے گا کہ جب نقصان پہنچا سکے اس وقت اس بات کو نکالے۔اس سے اگر پوچھا جائے کہ جب یہ بات ہوئی تھی اس وقت تم نے کیوں نہ بیان کی تو کہے گا میں نے سمجھا فساد ہو جائے گا۔ہم پوچھتے ہیں اگر یہی وجہ تھی نہ بیان کرنے کی تو پھر آج کیوں بیان کی۔آج فساد نہیں ہو گا۔پس جو شخص کسی بات کو اپنے دل میں چھپائے رکھتا ہے اور چھ ماہ یا سال کے بعد نکالتا ہے۔وہ یا تو بزدل ہے اسے سامنے ہونے کی جرأت نہ تھی۔بزدلی کا نام اس نے عفو رکھ لیا جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر ایک نامرد کے میں عفیف ہوں یا ایک اندھا کے کہ میں حرص اور لالچ کی نظر سے کسی کے مال کو نہیں دیکھتا۔یا جس کے ہاتھ نہ ہوں وہ کہے میں نے کبھی کسی کو چپیڑ نہیں ماری تو یہ اس کی کوئی خوبی نہ ہو گی۔جس بات کی طاقت ہی نہیں۔اس کے نہ کرنے میں خوبی کیسی۔پس بزدل ہے جو کہتا ہے میں نے فلاں کو معاف کر دیا۔اس نے معاف کہاں کیا۔جب کہ دل میں اس بات کو رکھ لیا۔ایسا آدمی یقینا" بزدل ہے یا پھر شرارتی اور مفسد ہے۔مومن کی شان یہ ہے کہ یا تو وہ معاف کر دیتا ہے۔یا پھر معاملہ کو چلاتا ہے۔بات کو ذمہ دار لوگوں کے ذریعہ چلانا شریعت کے خلاف نہیں بلکہ دل میں چھپا رکھنا یا بزدلی سے ڈر جانا یہ شریعت کے خلاف ہے اور پھر یہ اور بھی زیادہ شریعت کے خلاف ہے کہ بزدلی کا نام نیکی رکھا جائے کیونکہ ایک تو یہ گناہ کیا کہ دل میں ایک بات کو رکھا۔اور پھر دوسرا گناہ یہ کیا کہ اسے نیکی قرار دیا۔اس طرح دوہرا جرم ہو گیا۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ دو طریقوں سے ایک طریق اختیار کر لیا کریں۔یعنی اگر وہ کسی کو معاف کرنا چاہیں تو معاف کر دیں۔اور اگر معاملہ کو پیش کرنا چاہیں تو پیش کریں مگر پیش کرنے والوں کے متعلق پھر میں نصیحت کروں گا کہ جہاں تک ہو سکے عضو سے کام لیں۔کیونکہ محبت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک عفو سے کام نہ لیا جائے۔دیکھو ہم اللہ تعالٰی سے کیا چاہتے اور کس سلوک کی توقع رکھتے ہیں۔یہی کہ معاف کر دے۔