خطبات محمود (جلد 10) — Page 147
جماعت میں جہاں اس قسم کا کوئی معاملہ ہو خلیفہ کو اطلاع دینی چاہئے کہ فلاں نے مجھ سے یہ بد سلوکی کی ہے جسے میں معاف نہیں کر سکتا۔تب تحقیقات کی جائے گی۔اگر قصور ثابت ہو گیا اور سزا ضروری سمجھی گئی تو سزا دی جائے گی۔اور اگر جرم ثابت نہ ہوا تو بتا دیا جائے گا کہ جرم ثابت نہیں ہے۔اگر اس طرح ہو تو کوئی فتنہ اور کوئی فساد کسی جگہ پیدا نہیں ہو سکتا۔مگر مشکل یہ ہے کہ لوگ ایک درمیانی چال چلتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ایک طرف تو مقابلہ نہ کرنا۔اور دوسری طرف معاف نہ کرنا۔یہ عد درجہ کی بزدلی ہے۔اور اس طرح معاملہ بہت بڑھ جاتا ہے۔اگر کسی معاملہ کو کوئی شخص چھوڑتا ہے۔تو پورے طور پر چھوڑے۔اور اگر نہیں چھوڑنا چاہتا تو چلائے۔اس کا کیا مطلب کہ اس بات کو دل میں تو رکھے اور منہ سے کسے میں نے اس بات کو جانے دیا۔اس کا دل میں رکھنا بتاتا ہے کہ اس نے جانے نہیں دیا۔بلکہ موقع کا منتظر ہے کہ کب موقع ملے تو بدلہ لوں۔مومن کو ایک طریق اختیار کرنا چاہئے۔یا تو معاف کر دینا چاہئے۔اور یا پھر تحقیقات کے لئے ذمہ دار لوگوں کے سامنے لانا چاہئے۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں نے فلاں معاملہ معاف کر دیا۔اس کا یہ مطلب ہے کہ پھر وہ کبھی اس بات کو ذہن میں نہ لائے اور سمجھ لے گویا وہ واقعہ ہوا ہی نہیں لیکن اگر معاف نہیں کرتا۔تو اس کا فرض ہے کہ اسے چلائے جہاں تک کہ شریعت اجازت دیتی ہے۔اعلیٰ افسر یا خلیفہ کے پاس اس بات کو پہنچائے اگر کوئی شخص ایسا نہیں کرتا یعنی نہ تو معاف کرتا ہے اور نہ آگے چلاتا ہے تو وہ مفسد ہے۔وہ پھوڑے کو چھپا کر رکھتا ہے۔اس لئے نہیں کہ اپنے قصور وار بھائی کو معاف کرتا ہے۔بلکہ اس لئے کہ پیپ بڑھے۔اس طرح فساد اور زیادہ بڑھتا ہے۔لیکن اگر انسان معاف کر دے تو فساد نہیں ہوتا۔یا اگر معاف نہ کرے بلکہ معاملہ کو چلائے تو بھی فساد نہیں ہوتا۔کیونکہ اصل بات کھل جاتی ہے۔لیکن ان دونوں طریقوں میں سے کوئی بھی اختیار نہ کرے۔تو وہ فسادی ہے۔اور اس کا حق نہیں ہے کہ کہے میں نے فلاں بات کو اس لئے جانے دیا کہ فساد ہو گا۔فساد تو اس طرح ہو گا۔پس میں ایک تو دوستوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں۔اگر ان کے دل میں سلسلہ کی محبت اور الفت ہے اور وہ سلسلہ کے خیر خواہ ہیں تو جب بھی ان کا آپس میں کوئی اختلاف ہو۔لڑائی ہو ایک دوسرے کو معاف کر دیں۔اور اگر معاف نہ کر سکیں۔تو اس معاملہ کو فیصلہ کے لئے پیش کریں۔تاکہ اس کا تصفیہ ہو جائے۔ان دونوں صورتوں کے علاوہ اگر وہ تیسری صورت اختیار کریں گے۔تو یقیناً اس کے یہ معنی ہوں گے کہ وہ فسادی ہیں۔اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث نہیں بن سکیں گے۔بلکہ سزا کے مستحق ہوں گے۔لیکن ان دو باتوں میں سے بھی کوئی ایک اختیار کرنے والوں