خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 149

149 اگر ہمیں خدا تعالٰی سے یہی امید اور توقع ہے تو کیا ہمارا فرض نہیں کہ خدا کے بندوں سے ہم بھی ایسا ہی سلوک کریں۔اگر کوئی شخص لوگوں کے قصور معاف نہیں کرتا۔اور ہر غلطی پر گرفت کرتا ہے تو اس کا کیا حق ہے کہ خدا تعالٰی سے عضو کی امید رکھے۔کیا خدا تعالی اس سے نہ پوچھے گا کہ تم نے میرے بندوں کو چھوٹے چھوٹے قصور معاف نہ کئے۔تو میں تمہارے بڑے بڑے گناہ کیوں معاف کر دوں؟ مگر وہ جو اپنے بھائیوں کے قصور معاف کرتا ہے۔جب خدا تعالیٰ کے گا۔تم نے انسان ہو کر انسانوں کے قصور معاف کئے۔پھر میں خدا ہو کر کیوں تمہارے قصور معاف نہ کروں۔پس اگر تم لوگ چاہتے ہو کہ خدا تعالیٰ تمہارے قصور معاف کرے۔تو تمہارا بھی فرض ہے کہ لوگوں کے قصور معاف کرو۔اگر اس نصیحت کو ہماری جماعت کے سب لوگ مان لیں۔تو تمام فتنے دور ہو سکتے ہیں۔اور وہی محبت پیدا ہو سکتی ہے جس کا پیدا کرنا اسلام کی غرض ہے۔تم لوگ اس وقت اسلام کی نازک حالت کو دیکھو دشمنوں کی کثرت اور ان کے سمجھوتے کو دیکھو اور اپنی جانوں پر رحم کر کے آپس میں اتفاق اور محبت پیدا کرو کیونکہ اس کے بغیر کوئی قوم کامیاب نہیں ہو سکتی۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے دل صاف کرے۔ان سے ہر قسم کا بغض نکال دے۔اور ایک دوسرے کی سچی محبت پیدا کرے۔جو مومنوں کا خاصہ ہے۔الفضل ۴ مئی ۱۹۲۶ء)