خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 105

105 ان کے قلوب میں داخل ہی نہیں ہوا۔ تم سب کچھ کرتے ہو سارے احکام کی تعمیل کرتے ہو۔ مگر باوجود اس کے تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا۔ اب سوال ہوتا ہے کہ وہ کونسی چیز تھی جس کی وجہ سے ایمان ان کے دل میں داخل ہو جاتا اور وہ ان کے پاس نہ تھی اور کیوں باوجود اس کے کہ وہ نمازیں پڑھتے تھے۔ روزے رکھتے تھے۔ حج کرتے تھے۔ زکوٰۃ دیتے تھے۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا ابھی تم اطاعت اللہ و اطاعت رسول میں داخل نہیں ہوئے۔ بے شک تم سب باتیں مانتے ہو۔ کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ تم یہ کہہ سکتے ہو اسلمنا ہم اسلام لے آئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ظاہری اطاعت کرتے تھے کیونکہ اگر ظاہری اطاعت نہ کرتے تو خدا تعالیٰ یہ نہ کہتا کہ تم کہہ سکتے ہو ہم اسلام لائے۔ پھر اس کے ہوتے ہوئے کیوں کہا جاتا ہے۔ تم مطبع نہیں ہو۔ اور تم ایمان نہیں لائے۔ معلوم ہوتا ہے۔ ظاہری اطاعت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز۔ کیونکہ ان کے ظاہری فرمانبردار ہوتے ہوئے کہا جاتا ہے۔ کہ تم ایمان نہیں لائے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وان تطيعوا الله و رسوله لا يلتكم من اعمالكم اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کر لو تو پھر اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہارے اعمال میں کمی نہیں کی جائے گی۔ یہ جواب ان باتوں کا ہے جو پیچھے بیان ہوئی ہیں اور جہاں یہ فرمایا کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائے۔ اگر کہو یہ تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ سب احکام مانتے ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس میں ایمان اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پیدا ہو جائے اس کے ایمان میں پھر کمی نہیں ہوتی ۔ چونکہ اعراب کو یہ بات حاصل نہیں۔ اس لئے معلوم ہوا۔ ان میں حقیقی ایمان نہیں ہے۔ اب دیکھو یہ آیت حضرت ابوبکر ان کے زمانہ میں کس طرح پوری ہوئی۔ انہیں لوگوں ۲ یہ صرف رسول نے رسول کریم ﷺ کے وصال کے بعد کہہ دیا ۔ اب ہم زکوۃ نہیں دیتے ٢ ۔ کریم کو دینے کا حکم تھا۔ اور باجماعت نماز پڑھنے میں سست ہو گئے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے بے شک اب تم نمازیں پڑھتے ہو زکوٰۃ اور چندہ دیتے ہو۔ مگر ایک وقت آئے گا۔ جب ان میں کمی واقع ہو جائے گی۔ یہ بات ایک مومن کے اعمال میں کبھی نہیں ہوتی۔ چنانچہ لا بلتکم کی تشریح رسول کریم نے فرمائی ہے۔ فرماتے ہیں۔ کسی کے دل میں ذرا بھی ایمان داخل ہو جائے۔ یعنی بشاشت ایمان ہی رکھتا ہو سارا ایمان نہیں ۔ بلکہ ایمان کی خوشبو ہی اس کے دل میں ہو تو خواہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے۔ پھر بھی وہ ایمان سے نہیں پھرے گا۔ ۳؎ یہ ہے ایمان۔ اور ایمان کے معنی یہ ہیں